Bharat Express DD Free Dish

Clashes in Suwayda province: شام میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود بدامنی برقرار، سویدا میں فرقہ وارانہ تصادم میں 37 افراد جاں بحق

حالیہ تصادم عبوری صدر احمد الشرع کے لیے ایک نیا امتحان بن گیا ہے، جو بین الاقوامی حمایت سے اقتدار میں تو آئے ہیں لیکن میدانی سطح پر امن و استحکام قائم رکھنے میں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اقلیتوں کے تحفظ اور علاقائی انصاف کی سمت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو شام ایک بار پھر خانۂ جنگی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔

دمشق: شام میں حکومت کی تبدیلی کو نو ماہ بیت چکے ہیں، تاہم ملک میں مکمل امن قائم ہونا اب تک ممکن نہیں ہو پایا ہے۔ پیر کے روز دروز اکثریتی شہر سویدا میں دروز اور بدو قبائل کے درمیان شدید فرقہ وارانہ تصادم ہوا، جس میں 37 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (SOHR) کے مطابق شامی وزارتِ دفاع نے تصادم کے بعد علاقے میں بھاری تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے۔ ’المیادین‘ ٹی وی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ یہ خونی جھڑپ اغوا کے حالیہ واقعات کے بعد شروع ہوئی، جن میں 11 جولائی کو ایک دروز تاجر کا اغوا بھی شامل ہے۔

رجال الکرامہ کی حکومت پر تنقید

دروز برادری کے سرکردہ رہنما رجال الکرامہ نے موجودہ صورت حال کے لیے شامی حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ حالات ملک کو ایک نئے انتشار کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

دروز برادری کا پس منظر

واضح رہے کہ شام میں دروز برادری کی تعداد تقریباً 7 لاکھ ہے، جن کا سب سے بڑا مرکز سویدا شہر ہے۔ دروز ایک قدیم اور منفرد مذہبی اقلیت ہے جو بنیادی طور پر شام، لبنان، اردن اور اسرائیل میں رہائش پذیر ہے۔ اس برادری کی جڑیں 10ویں صدی کے اسماعیلی شیعہ فرقے سے منسلک ہیں، لیکن اس نے وقت کے ساتھ ایک علیحدہ مذہبی شناخت اختیار کر لی ہے۔ دروز برادری توحید اور تناسخ پر یقین رکھتی ہے اور مذہبی معاملات میں انتہائی رازداری سے کام لیتی ہے۔ سویدا میں بدو قبائل کے ساتھ ان کا پرانی دشمنی پر مبنی تنازعہ وقتاً فوقتاً پُرتشدد صورت اختیار کرتا رہتا ہے۔

کردوں نے ہتھیار ڈال دیے، دروز اب بھی سرگرم

دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد الشرع کی عبوری حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد کرد جنگجو ہتھیار ڈال چکے ہیں، تاہم دروز گروپ اب بھی ہتھیار بند ہے اور حکومت سے تحفظات رکھتا ہے۔ اس بدامنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی تبدیلی کے باوجود شام میں پائیدار امن کا قیام ایک چیلنج ہی بنا ہوا ہے۔

حکومت کے لیے بڑا امتحان

یہ حالیہ تصادم عبوری صدر احمد الشرع کے لیے ایک نیا امتحان بن گیا ہے، جو بین الاقوامی حمایت سے اقتدار میں تو آئے ہیں لیکن میدانی سطح پر امن و استحکام قائم رکھنے میں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اقلیتوں کے تحفظ اور علاقائی انصاف کی سمت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو شام ایک بار پھر خانۂ جنگی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read