نئی دہلی:نیشنل سیکیورٹی جاگرن منچ (Forum for Awareness of National Security – FANS) کی تین روزہ دسویں سالانہ قومی عام سبھا کا اختتام ’’نو مور پاکستان‘‘ جیسے فیصلہ کن قومی پیغام کے ساتھ ہوا۔ ملک بھر سے آئے نمائندوں نے بھارت کی قومی سلامتی، سرحدی استحکام اور اسٹریٹجک چیلنجز پر سنجیدہ غور و فکر کیا۔
اختتامی اجلاس میں منچ کے سرپرست اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر مفکر ڈاکٹر اندریش کمار نے دوٹوک انداز میں کہا:
’’نو مور پاکستان’’ اب صرف ایک نعرہ نہیں رہا، بلکہ یہ بھارت کی قومی پالیسی کی سمت بن چکا ہے۔ ہمیں صرف سرحدوں کی ہی نہیں، بلکہ نظریات کی بھی حفاظت کرنی ہے۔ جب تک پاکستان دہشت گردی کی فیکٹری بنا رہے گا، بھارت کی سیکیورٹی مکمل نہیں ہو سکتی۔ ملک کی یکجہتی، سالمیت اور سلامتی کے لیے نوجوانوں کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کا دور پانی، خیالات اور ثقافت کے تصادم کا دور ہوگا، اور بھارت کو ایک بیدار، منظم اور ثقافتی طور پر مضبوط قوم بننا ہوگا۔ ڈاکٹر اندریش نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ قوم کی تعمیر نو کی مہم میں سرگرم شرکت کریں۔

قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار: پروفیسر مظہر آصف کا خطاب
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’2014 کے بعد سے بھارت کی عالمی شبیہ میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، اور آج دنیا بھارت کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ نوجوانوں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔‘‘

’’نو مور پاکستان’’ ایک ہمہ گیر قومی مہم
عام سبھا کے ابتدائی سیشن میں آئندہ پروگراموں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ملک بھر کی مختلف اکائیوں نے ’’نو مور پاکستان‘‘، ’’اکھنڈ بھارت سنکلپ‘‘، ’’نشہ مکتی بھارت‘‘ اور ’’سائبر کرائم بیداری‘‘ جیسے موضوعات پر مہم چلانے کی منصوبہ بندی پیش کی۔
اہم منصوبے:14 اگست کو امرتسر، پٹیالہ، جموں و کشمیر، کانپور سمیت کئی شہروں میں ’’نو مور پاکستان’’پر بیداری پروگرام
پٹھان کوٹ، لدھیانہ، جالندھر میں نشہ مخالف مہم
’’ہند سے ہمالیہ‘‘ اور ’’ناری شکتی بیداری‘‘ جیسے پروگراموں کو منظم شکل دینے پر اتفاق
گورکھپور سے پٹھوراگڑھ تک حب الوطنی کی لہر
گورکھپور ڈیویژن نے حب الوطنی پر مبنی ایک جامع شیڈیول کا اعلان کیا:
10 اگست: صوبائی ایگزیکٹو میٹنگ
13–17 اگست: ’’نو مور پاکستان’’ مہم (دین دیال اپادھیائے یونیورسٹی، ایم ایم انجینئرنگ کالج)
26 جنوری 2026: ‘‘اب انوشاسن ہی راشٹر کا جیون ہے’’ موضوع پر لیکچر
16 فروری 2026: کشی نگر سے پٹھوراگڑھ تک ‘‘شوریہ یاترا’’
23 جنوری 2026: ‘‘بھارت بھومی کو پرنام’’ (نیٹا جی سبھاش چندر بوس جینتی)
14 اپریل 2026: آئین دیوس (بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر جینتی)
شری گنگانگر سے جموں تک ‘‘وشال بھارت یاترا‘‘
مغربی بھارت کی اکائیوں نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو ’’امر بھارت ابھیان‘‘ اور ’’وشال بھارت بھومی سپرش پروگرام‘‘ منعقد کیا جائے گا۔
یہ یاترا 5 اگست کو وڈودرا سے شروع ہوکر 19 اگست کو جموں میں عظیم راشٹربھکتی مارچ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔
نمایاں شرکاء اور قومی عزم
عام سبھا میں منچ کے سینئر عہدیداران، قومی سلامتی کے ماہرین، تعلیم دان، سابق سرکاری افسران، نوجوان نمائندگان اور ملک بھر کی 50 سے زائد اکائیوں سے آئے ہوئے نمائندوں نے سرگرم حصہ لیا۔
اس موقع پر متعدد معزز شخصیات موجود تھیں جن میں پروفیسر مہتاب عالم رضوی، گولوک بہاری رائے، وکرما دتیہ سنگھ، ڈاکٹر ستیا پرکاش، جے پی شرما، پروفیسر انل سومترا، ایس کے مہاپاترا، کرنل غلام محمد خان، ڈاکٹر ورتیکا شرما، ڈاکٹر ابھی، ڈاکٹر امِت، پروفیسر اندراپریت کور، ایڈووکیٹ ویریندر چودھری، اور دیگر شامل تھے۔
نتیجہ:نیشنل سیکیورٹی جاگرن منچ کی یہ سالانہ عام سبھا محض غور و خوض کا اجلاس نہیں تھی بلکہ یہ بھارت کی مستقبل کی اسٹریٹجک پالیسی، ثقافتی اتحاد اور نوجوانوں کی قومی طاقت کے منظم مظاہرے کی علامت بنی۔ ’’نو مور پاکستان‘‘ اب صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ بھارت کی قومی سلامتی کی سمت میں ایک فیصلہ کن، منظم اور ہمہ گیر مہم میں تبدیل ہو چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

