ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) اور کاروانِ محبت نے آج نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سنبھل میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد پر مبنی اپنی تحقیقاتی رپورٹ “Sambhal: Anatomy of an Engineered Crisis” اور دستاویزی فلم “Sambhal Mosque Killings” جاری کی۔ اس تقریب میں متاثرین، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی اور واقعے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سنبھل، جو اپنی اسلامی وراثت اور پرامن بقائے باہمی کے لیے جانا جاتا رہا ہے، اچانک ایک مذہبی تنازعے کا مرکز بنا دیا گیا۔ 19 نومبر 2024 کو ایک سول عدالت کے حکم پر شاہی جامع مسجد میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سروے کیا گیا، جس کے بعد 24 نومبر کو ایک دوسرا سروے ہوا جس میں اشتعال انگیز نعروں کے ساتھ ایک ہجوم کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے دیا گیا۔ یہ تمام کارروائیاں اس انداز میں ہوئیں کہ مقامی مسلمانوں کو نہ اعتماد میں لیا گیا، نہ ہی کسی قسم کی شفافیت دکھائی گئی۔ انھی واقعات کے بعد سنبھل میں بڑے پیمانے پر احتجاج پھوٹ پڑا۔
رپورٹ میں اٹھایا گیا ہے پولیس کی غیرجانبداری پر سوال
رپورٹ کے مطابق پولیس نے ان مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، جس میں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور فائرنگ شامل تھی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں پانچ مسلمان، جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے، درجنوں زخمی ہوئے اور 85 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ عینی شاہدین اور ویڈیوز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مظاہرین غیر مسلح تھے اور پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی۔ کئی گھروں پر بغیر وارنٹ چھاپے مارے گئے، املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اور خواتین کو بغیر لیڈی پولیس اہلکاروں کے گرفتار کیا گیا۔
متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تاکہ سرکاری بیانیہ ہی عوام تک پہنچے، اور بیرونی افراد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ گرفتار شدگان کو قانونی امداد فراہم کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، پوسٹ مارٹم رپورٹس روک لی گئیں، اور اہلِ خانہ کو تب تک میتیں نہیں دی گئیں جب تک وہ خالی کاغذات پر دستخط نہ کریں۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ بعض سرکاری اداروں نے احتجاج کے مقام سے پتھر اٹھا کر پولیس چوکیوں کی بنیاد رکھی، گویا ریاستی ادارے خود اس تشدد کو علامتی طور پر جائز قرار دے رہے ہوں۔
سنبھل کو اچانک ’’کلکی دھام‘‘ کے طور پر پیش کرنا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش: ہرش مندر
سماجی کارکن ہرش مندر نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اچانک سنبھل کو ’’کلکی‘‘ کے جنم استھان کے طور پر پیش کرنا ایک نیا بیانیہ ہے جو تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر مسجد کے نیچے مندر اور ہر مندر کے نیچے اسٹوپا ڈھونڈے جائیں گے تو پھر یہ سلسلہ کہاں رکے گا؟ انھوں نے کہا کہ سنبھل کی کوئی فرقہ وارانہ تاریخ نہیں رہی، لیکن اسے زبردستی ایودھیا میں بدلا جا رہا ہے۔ وکیل احمد ابراہیم نے کہا کہ اگر پولیس نے واقعی فائرنگ کی تو اس کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ آج تک کوئی رپورٹ نہیں دی گئی کہ کس کی گولی سے کون مارا گیا۔ قانون اگر غیر جانبداری سے نافذ ہوتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔
رپورٹ کے شریک محقق نوشرن سنگھ نے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر انسان لرز اٹھتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کی گرفتاری، قانونی کارروائی کے بغیر مکانات کا انہدام اور روزمرہ کی سہولیات کو بطور سزا استعمال کرنا ریاستی جبر کی بدترین مثالیں ہیں۔ صحافی صبا نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی رپورٹس ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہونی چاہئیں، کیوں کہ جب کہانی قلمبند نہ کی جائے تو ظلم مٹ جاتا ہے اور تاریخ خاموش ہو جاتی ہے۔
کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا-آج کا ماحول جمہوریت کے اصولوں کے منافی
کانگریس کے رہنما عمران مسعود نے کہا کہ سنبھل کے عوام خوف میں مبتلا ہیں، اور آج کا ماحول جمہوریت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہ صرف مین اسٹریم میڈیا بلکہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر بھی اس موضوع پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں تاکہ سچائی کو دبا دیا جائے۔
اے پی سی آر کی رپورٹ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ سنبھل میں ہونے والا تشدد روکا جا سکتا تھا۔ پولیس کو پرامن طریقوں سے ہجوم کو منتشر کرنے کے مواقع میسر تھے، لیکن انھیں استعمال نہیں کیا گیا۔ مقامی برادری کو اعتماد میں لینا، امن کمیٹیوں کو فعال کرنا اور غیر جانبدار انتظامیہ کا کردار، یہ تمام عناصر غائب تھے۔
Sambhal: Anatomy of an Engineered Crisis رپورٹ میں بابری مسجد کے انہدام سے قبل کے ماحول سے سنبھل کی صورتِ حال کو تشبیہ دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت اقلیتوں کو خوف، تشدد اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔ اے پی سی آر نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی اس طرح کی دستاویزی کوششوں کے ذریعے حقائق کو سامنے لاتے رہیں گے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




