مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس۔ (فائل فوٹو)
مہاراشٹر حکومت نے اتوار کو ریاست گیر احتجاج کے بعد اسکولوں کے لیے تین زبانوں کی پالیسی سے متعلق اپنی متنازعہ قراردادوں کو واپس لے لیا ہے۔ وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے اعلان کیا کہ اس پالیسی کا جائزہ لینے اور اگلے اقدامات کی سفارش کرنے کے لیے ایک نئی ماہر کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
اپوزیشن نے کیا سخت احتجاج
یہ اقدام ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں شیو سینا (یو بی ٹی) کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں مظاہرین نے 17 جون کی قرارداد کی کاپیاں جلا دی تھیں۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت علاقائی زبانوں کی قیمت پر ریاست کے اسکولوں کے نصاب میں ہندی کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو کہا کہ ’’ہم نے جی آر کی کاپیاں جلا دی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ ہم ہندی کی مخالفت نہیں کرتے لیکن ہم اسے نافذ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت اس مورچے کی وجہ نہیں سمجھ رہی ہے۔ مراٹھی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ طلباء پر کتنا دباؤ ڈالیں گے؟‘‘
وزیر اعلیٰ نے کیا قراردادیں واپس لینے کا اعلان
دریں اثنا آج سی ایم فڈنویس نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ہم نے تین زبانوں کی پالیسی سے متعلق دونوں حکومتی قراردادوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ڈاکٹر نریندر جادھو کی قیادت میں ایک نئی کمیٹی اس بات کا مطالعہ کرنے کے لیے قائم کی جائے گی کہ پالیسی کو کیسے لاگو کیا جانا چاہیے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کے خیالات کو مدنظر رکھا جائے گا۔‘‘
واضح رہے کہ واپس لیے گئے قرارداد میں تجویز کیا گیا تھا کہ ہندی ’’عام طور پر‘‘ تیسری زبان ہوگی جو مراٹھی اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں پہلی سے پانچویں جماعت تک پڑھائی جاتی ہے۔ اس نے طلباء کو ہندی کے بجائے دوسری ہندوستانی زبان پڑھنے کا اختیار بھی پیش کیا، اگر ایک کلاس میں کم از کم 20 طلباء اس کا انتخاب کریں۔ تاہم اس پالیسی نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے شدید رد عمل کو جنم دیا، جن کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے مراٹھی زبان اور ثقافت کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ ادھو ٹھاکرے نے واضح کیا کہ یہ احتجاج بطور زبان ہندی کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کی جبری شمولیت کے خلاف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

