پی ایم مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے مقبول پروگرام ’من کی بات‘ کے 123ویں ایپی سوڈ میں کئی اہم موضوعات پر ہم وطنوں سے بات کی۔ ایک اہم مسئلہ کانگریس کے دور حکومت میں 1975 میں نافذ ایمرجنسی تھی۔ اس دوران پی ایم مودی نے ملک کے لوگوں کو اس دور کی ہولناکیوں اور بحرانوں سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف لیڈران کے آڈیو پیغامات بھی چلائے۔ ان آڈیوز کے ذریعے انہوں نے اس وقت کے حالات کو جاندار انداز میں پیش کیا، جب جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کہا، ’’عوامی شراکت کی طاقت سے بڑے بحرانوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے سابق وزیر اعظم مرار جی بھائی دیسائی کے ایک آڈیو کا ذکر کیا، جس میں انہوں نے ایمرجنسی کے ظلم کو بیان کیا۔ مرارجی بھائی نے کہا تھا، ’’آخر یہ ظلم جو دو سال تک ہوا، یہ ظلم 5-7 سال پہلے شروع ہو گیا تھا، لیکن عروج پر پہنچ گیا یہ دو سال میں، جب لوگوں پر ایمرجنسی لگائی گئی اور غیر انسانی سلوک کیا گیا، لوگوں کا آزادی کا حق چھین لیا گیا، اخبارات کو آزادی نہیں تھی، عدالتیں مکمل طور پر کمزور کر دی گئیں، جس طرح سے حکومت نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جیلوں میں بند کر دیئے۔ اور پھر سرکار کی من مانی ہوتی رہی۔ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں بھی ملنا مشکل ہے۔‘‘
پی ایم مودی نے کہا کہ مرار جی بھائی دیسائی نے ایمرجنسی کے بارے میں مختصر لیکن بہت واضح طور پر بتایا ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں، وہ دور کیسا تھا۔ ایمرجنسی لگانے والوں نے نہ صرف ہمارے آئین کا قتل کیا بلکہ ان کا ارادہ عدلیہ کو بھی اپنا غلام بنائے رکھنے کا تھا۔ اس دوران لوگوں کو بڑے پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ جارج فرنینڈس کو زنجیروں میں باندھ دیا گیا تھا۔ کئی لوگوں کو سخت اذیتیں دی گئیں۔ میسا کے تحت، کسی کو بھی اسی طرح گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ طلبہ کو بھی پریشان کیا گیا اور اظہار رائے کی آزادی سلب کی گئی۔
اس دوران پی ایم مودی نے ہندوستانی عوام کی ناقابل تسخیر طاقت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریک دور میں بھی ہندوستانی عوام نہ جھکے، نہ ٹوٹے اور نہ ہی جمہوریت سے سمجھوتہ کیا۔ بالآخر عوام کی جیت ہوئی اور ایمرجنسی ہٹانے کے ساتھ ساتھ اسے نافذ کرنے والی قوتوں کو بھی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔
اس تناظر میں پی ایم نے بابو جگجیون رام کی ایک آڈیو کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا، ’’پچھلا الیکشن، الیکشن نہیں تھا، یہ ہندوستان کے لوگوں کی ایک زبردست مہم تھی۔ اس وقت کے حالات کو بدلنے کے لیے، آمریت کی لہر کو موڑنے اور ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے‘‘۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ’’ملک میں جو کچھ ہوا اسے محض الیکشن نہیں کہہ سکتے ۔ ایک پرامن انقلاب برپا ہوا ہے۔ لوک شکتی کی لہر نے جمہوریت کے قاتلوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔‘‘
پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر ہم وطنوں نے اس دور کے ظلم کو یاد کرنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے چوکس رہنے کے لیے ’سمویدھان ہتیہ دیوس‘ منایا۔ انہوں نے ان تمام ہیروز کو یاد کرنے پر زور دیا جنہوں نے ایمرجنسی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور آئین کو مضبوط رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

