سرکاری ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کا اپنا طے شدہ دورہ موسلادھار بارش کی پیشین گوئی کی وجہ سے منسوخ کر دیا۔ امت شاہ وہاں اراک بھٹی گاؤں میں ابوجھمادیہ قبیلے کے افراد سے ملنے والے تھے، لیکن خراب موسم کی وجہ سے انھیں اپنے پروگرام میں تبدیلی کرنی پڑی۔
نارائن پور کا سفر کرنے کے بجائے امت شاہ رائے پور میں ہی رہے، جہاں انھوں نے مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ اہم میٹنگوں کی صدارت کی۔ ان میٹنگوں میں نکسل مخالف کارروائیوں کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی، خاص طور پر مانسون کے موسم میں، جب روایتی طور پر باغیوں کی سرگرمیوں میں کمی دیکھی جاتی ہے۔
میٹنگ کے دوران شاہ نے 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو ختم کرنے کے لیے مرکز کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے اتوار کو کہا کہ ’’ہماری سیکورٹی فورسز کی طرف سے دکھائی گئی بہادری مجھے یقین دلاتی ہے کہ ہم اس مقصد کو حاصل کر لیں گے۔‘‘ وہیں نکسلیوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ’’اگر تم ہتھیار نہیں ڈالو گے تو ہم تمہیں مانسون میں سونے نہیں دیں گے۔‘‘ انھوں نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے عسکریت پسندوں پر زور دیا کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوں۔
بین ریاستی تال میل پر بھی دیا زور
مرکزی وزیر نے چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کے سینئر پولیس حکام کے ساتھ بین ریاستی سیکورٹی کوآرڈینیشن میٹنگ بھی بلائی، جس میں بارش کے موسم میں مربوط آپریشنز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور نکسلیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل دباؤ پر زور دیا گیا۔
امت شاہ نے چھتیس گڑھ میں موجودہ قیادت کی تعریف کی اور وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی اور نائب وزیر اعلیٰ وجے شرما کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے گزشتہ 18 مہینوں میں نکسل مخالف مہم کو تقویت بخشی ہے۔ انھوں نے نوٹ کیا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کو کمزور کرنے کے لیے مضبوط بین ریاستی تعاون ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



