کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر انتخابات میں ’’میچ فکسنگ” کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پولنگ کے بعد 45 دن کے اندر انتخابی سی سی ٹی وی فوٹیج تلف کرنے کا حکم شواہد مٹانے کی ایک کوشش ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا کہ ’’ووٹر لسٹ؟ مشین ریڈیبل فارمیٹ میں نہیں دیں گے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج؟ قانون بدل کر چھپا دی۔ الیکشن کی ویڈیو؟ اب ایک سال نہیں، صرف 45 دنوں میں ہی مٹا دیں گے۔ جس سے جواب چاہیے تھا، وہی ثبوت مٹا رہا ہے۔ صاف دکھ رہا ہے۔میچ فکس ہے۔ اور فکس کیا گیا الیکشن جمہوریت کے لیے زہر ہے۔‘‘
वोटर लिस्ट?
Machine-readable फ़ॉर्मेट नहीं देंगे।CCTV फुटेज?
कानून बदलकर छिपा दी।चुनाव की फोटो-वीडियो?
अब 1 साल नहीं, 45 दिनों में ही मिटा देंगे।जिससे जवाब चाहिए था – वही सबूत मिटा रहा है।
साफ़ दिख रहा है – मैच फिक्स है। और फिक्स किया गया चुनाव, लोकतंत्र के लिए ज़हर है। pic.twitter.com/eYXAykO04p
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 21, 2025
الیکشن کمیشن حال ہی میں کی ہے 45 دنوں میں فوٹوز-ویڈیوز ہٹا دینے کی ہدایت
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ دسمبر 2024 میں قانون میں ترمیم کے بعد عوام کی انتخابی سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی محدود کر دی گئی ہے، جس پر انھوں نے پہلے بھی تنقید کی تھی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں ریاستی چیف الیکٹورل آفیسرز (CEOs) کو ایک خط میں ہدایت دی کہ اگر 45 دن کے اندر اس سلسلے میں کوئی مقدمہ دائر نہ ہو تو انتخابی عمل کی فوٹیج 45 دن بعد تلف کر دی جائے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ انتخابی عمل کے ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس لیے اس پالیسی کا جائزہ لینا ضروری تھا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطالبے پر کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج کسی بھی انتخابی پٹیشن کی صورت میں متعلقہ ہائی کورٹ کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے، تاکہ انتخابات کی شفافیت اور ووٹر کی پرائیویسی دونوں محفوظ رہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی راہل گاندھی نے مہاراشٹرا میں ووٹر لسٹ میں لاکھوں ووٹروں کے اضافے اور مشین ریڈیبل ووٹر لسٹ جاری نہ کیے جانے جیسے امور پر کمیشن کی ساکھ پر سوال اٹھائے ہیں۔ تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی الزامات تو لگاتے ہیں، لیکن ان الزامات کو تحریری طور پر کمیشن کے سامنے نہیں رکھتے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

