Bharat Express DD Free Dish

Flood in Assam: آسام میں سیلاب کی سنگین صورت حال کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ ہیمنتا سے کی بات، ہر ممکن مدد کی پیش کش کی

آسام میں اتوار کو سیلاب سنگین صورت حال کے درمیان، جہاں 10 بڑے دریا خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں اور 15 سے زیادہ اضلاع میں سیلاب سے 78,000 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

آسام میں اتوار کو سیلاب سنگین صورت حال کے درمیان، جہاں 10 بڑے دریا خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں اور 15 سے زیادہ اضلاع میں سیلاب سے 78,000 لوگ متاثر ہوئے ہیں، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو فون کرتے ہوئے ریاست میں سیلاب کی صورت حال کے بارے میں دریافت کیا اور ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی۔

حکام نے بتایا کہ ریاست میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 15 سے زیادہ اضلاع میں 78,000 سے زیادہ باشندے متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے روڈ ٹرانسپورٹ، ٹرین کی آمدورفت اور فیری سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔ سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے سیلاب کی شدید صورت حال کے پیش نظر ریاست کے لیے ’اورینج بلیٹن‘ جاری کیا ہے کیونکہ ریاست کے 10 بڑے دریا خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں۔

ہیمنتا بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر دی امت شاہ سے گفتگو کی اطلاع

وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاست کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دن کے اوائل میں وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما سے رابطہ کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے ہیمنتا بسوا سرما نے بتایا کہ ’’محترم وزیر داخلہ جناب امت شاہ جی نے کچھ دیر پہلے مجھے آسام میں سیلاب کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے فون کیا اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔ میں نے انھیں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔ ہم ان کی تشویش اور حمایت کے لیے شکر گزار ہیں۔‘‘

حکام نے بتایا کہ موسلا دھار بارش اور پڑوسی میگھالیہ سے بہنے والے پانی نے علاقے کی صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ برہم پترا ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ کی وجہ سے جورہاٹ اور ماجولی کے درمیان فیری خدمات کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ وہیں آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ (اے ایس ڈی ایم اے) کے بلیٹن میں کہا گیا تھا کہ ہفتہ کی شام تک پانچ افراد مٹی کے تودے گرنے اور تین سیلاب میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read