Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump on Tariff: ڈونلڈ ٹرمپ  نےاسٹیل کی درآمد پر 50 فیصد ٹیرف کا کیااعلان، چین  کے ناقص اسٹیل پر امریکہ نہیں کرئے گا انحصار

ہم ریاستہائے متحدہ میں اسٹیل پر ٹیرف کو 25فیصد سے 50فیصد کرنے جا رہے ہیں، جس سے ہمارے ملک میں اسٹیل کی صنعت مزید محفوظ ہو جائے گی۔’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز غیر ملکی اسٹیل کی درآمدات پر ٹیرف کو دوگنا کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس سے ٹیرف کی شرح موجودہ 25 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیرف کا مقصد امریکیا سٹیل کی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ پنسلوانیا میں یو ایس اسٹیل کے مون ویلی ورکس ارون پلانٹ میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف میں یہ اضافہ ملکی اسٹیل پروڈیوسروں کو تحفظ فراہم کرے گا اور امریکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم اسٹیل کی درآمد پر ٹیرف 25 فیصد بڑھانے جا رہے ہیں۔ ہم ریاستہائے متحدہ میں اسٹیل پر ٹیرف کو 25فیصد سے 50فیصد کرنے جا رہے ہیں، جس سے ہمارے ملک میں اسٹیل کی صنعت مزید محفوظ ہو جائے گی۔’ چین پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے مستقبل کو ‘شنگھائی کے ناقص اسٹیل’ پر انحصار کرنے کی بجائے ‘پٹس برگ کی طاقت اور فخر’ کے ساتھ تیار کیاجانا چاہیے۔

جاپانی کمپنی نیپون امریکی اسٹیل میں سرمایہ کاری کرے گی

اگرچہ اس انتظام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے، لیکن کچھ ٹھوس تفصیلات منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ پٹس برگ کے قریب یو ایس اسٹیل کے گودام میں ایک تقریب کے دوران، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا، ‘ہم آج یہاں ایک بلاک بسٹر معاہدے کا جشن منانے آئے ہیں، جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ مشہور کمپنی (یو ایس اسٹیل) ایک امریکی کمپنی رہے گی۔ آپ ایک امریکی کمپنی ہی رہیں گے، آپ جانتے ہیں، ٹھیک ہے؟’ اس دھوم دھام کے باوجود، یو ایس اسٹیل نے ابھی تک اپنے سرمایہ کاروں کے ساتھ معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی۔ نیپون اسٹیل نے مجوزہ شراکت داری کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن اس نے مخصوص شرائط بھی جاری نہیں کیں۔

معاہدے سے واقف امریکی قانون سازوں کے مطابق جاپانی کمپنی نپون اسٹیل امریکی پبلک سیکٹر کمپنی یو ایس اسٹیل کو حاصل کرے گی اور پنسلوانیا، انڈیانا، الاباما، آرکنسس اور مینیسوٹا میں اپنے آپریشنز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ قابل ذکر بات  یہ ہے کہ معاہدے کے بارے میں وضاحت کی کمی نے شکوک و شبہات کو ہوا دی ہے۔ یونائیٹڈ اسٹیل ورکرز یونین جو اس حصول کی ایک طویل عرصے سے ناقد ہے،  انہوں نے سوال کیا کہ کیا رپورٹ کردہ تبدیلیاں نپون کے اصل منصوبوں سے بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

امریکی اسٹیل یونین نے معاہدے پر سوالات اٹھائے ہیں

یونائیٹڈ اسٹیل ورکرز یونین نے ایک بیان میں کہا، “نیپون نے  کہا ہے کہ وہ امریکی اسٹیل کے کارخانوں میں صرف اسی صورت میں سرمایہ کاری کرے گا، جب اس کے پاس کمپنی کی مکمل ملکیت ہو۔ گزشتہ چند دنوں میں ہم نے ایسی کوئی رپورٹنگ نہیں دیکھی، جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ نیپون اسٹیل نے اس عہدے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔” ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کے برعکس، اگر نیپون اسٹیل کو یو ایس اسٹیل کی ملکیت مل جاتی ہے، تو یو ایس اسٹیل اب امریکی کمپنی نہیں رہے گی۔

بھار ت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔