Bharat Express DD Free Dish

Case against Kapil Mishra: عدالت نے کپل مشرا کے خلاف مقدمہ میں ہدایات پر عمل نہ کرنے پر دہلی پولیس کو کہا سخت و سست، جلد از جلد تعمیل کی ہدایت

کپل مشرا پر 23 جنوری 2020 کو اس وقت کے دہلی قانون ساز اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں اپنے ہینڈل سے قابل اعتراض بیانات پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔

دہلی کی ایک عدالت نے دہلی کے وزیر کپل مشرا کے خلاف 2020 کے دہلی قانون ساز اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں ’’قابل اعتراض بیانات‘‘ کے معاملے میں عدالت کی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکامی پر دہلی پولیس کے ’’غیر ذمہ دارانہ رویہ‘‘ کے لیے اسے سخت و سست کہا ہے۔ جج نے پہلے دہلی پولیس کے متعلقہ ڈی سی پی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے میں مائیکرو بلاگنگ سائٹ ’X‘ سے جمع کیے گئے مواد پر تفصیلی رپورٹ درج کریں۔

واضح رہے کہ کپل مشرا پر 23 جنوری 2020 کو اس وقت کے دہلی قانون ساز اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں اپنے ہینڈل سے قابل اعتراض بیانات پوسٹ کرنے کا الزام ہے۔ ریٹرننگ افسر کی شکایت پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ 26 مئی کو جاری کردہ ایک حکم میں جج نے نوٹ کیا تھا کہ متعلقہ ڈی سی پی کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ’ایکس‘ سے رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دہلی پولیس کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی وزارت سے رابطہ کرنے کی ہدایت

تاہم جج نے نوٹ کیا کہ تفتیشی ایجنسی کی جانب سے مزید تفتیش کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ جج نے کہا ’’اس سے پہلے کہ اس عدالت کی ہدایت کے مطابق تفتیشی ایجنسی کے غیر معمولی رویے پر کوئی سخت ریمارکس دیے جائیں، یہ عدالت اس معاملے کی حالت اور تفتیشی ایجنسی کی طرف سے غیر مناسب وضاحت کے حوالے سے اسے پولیس کمشنر، دہلی پولیس کے نوٹس میں لانے پر مجبور ہے۔‘‘

جج نے مزید کہا کہ اگر کسی وزارت کی مدد کی ضرورت پڑی تو دہلی پولیس کافی قابل ہے اور ’’اس کا سہارا لینے میں شرم محسوس نہیں کرے گی۔‘‘ جج نے دہلی پولیس کے کمشنر آف پولیس آفس سے آج کے آرڈر شیٹ کی رسید کا اعتراف بھی طلب کیا۔ جج نے جوائنٹ کمشنر، ناردرن رینج سے چارج اور اسٹیٹس رپورٹ پر مزید دلائل کے لیے معاملہ 7 جولائی کو سماعت کے لیے درج کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک خصوصی عدالت نے 7 مارچ کو ’’قابل اعتراض بیانات‘‘ دینے اور 2020 کے ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر کپل شرما کو جاری سمن کے خلاف ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ جج نے کہا کہ وہ مجسٹریل کورٹ کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ ریٹرننگ افسر کی طرف سے دائر کی گئی شکایت عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 125 (انتخابات کے سلسلے میں طبقات کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) کے جرم کا نوٹس لینے کے لیے کافی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read