Bharat Express DD Free Dish

Government has revoked citizenship: کویت حکومت نے راتوں رات ہزاروں افراد کی شہریت کردی منسوخ، باہری لوگوں پر کویت کے امیر کا سخت رخ، بینک کھاتے بند اور سرکاری سہولتوں پر بھی لگائی روک

کویت کے امیر جمہوریت کو ملک کے لیے خطرہ بتا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہاں رہنے والے تقریباً 50 لاکھ لوگوں میں صرف ایک تہائی ہی اصلی کویتی ہیں۔ اب یہاں صرف اصل کویتی ہی رہیں گے۔

کویت حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے راتوں رات ہزاروں لوگوں کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ اس فہرست میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ لوگ جب صبح میں نیند سے بیدار ہوئے تو کسی کا بینک کھاتہ بند ہو گیا تو کسی کی دیگر سرکاری سہولتیں ٹھپ ہو گئیں۔ جب معلوم کیا گیا تو پتہ چلا کہ ان کی شہریت ہی ختم ہو چکی ہے۔ مئی 2024 میں ہی کویت کے امیر نے جمہوریت کو ملک کے لیے خطرہ بتایا تھا اور آئین میں ترمیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

شادی کے بعد ملنے والی شہریت منسوخ

کویت حکومت ان لوگوں کی شہریت زیادہ منسوخ کر رہی ہے جنہیں شادی کے بعد یہاں کی شہریت ملی تھی۔ اس فہرست میں خواتین زیادہ شامل ہیں۔ جنہوں نے کویت کے مردوں سے شادی کرکے یہاں کی شہریت حاصل کی تھی۔

اسی کڑی میں ایک نام لاما کا ہے۔ جب وہ کویت سٹی میں کریڈٹ کارڈ سے پمنٹ کرنے لگیں تو پتہ چلا کہ ان کا کھاتہ منجمد کر دیا گیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کی شہریت ہی منسوخ ہو چکی ہے۔ لاما بنیادی طور پر جارڈن کی رہنے والی ہیں۔ لاما ان 37 ہزار لوگوں میں شامل ہیں جن کی گزشتہ سال اگست کے بعد سے شہریت جا چکی ہے۔ ان میں 26 ہزار خواتین شامل ہیں۔ یہ کویت کی حکومت کا ڈاٹا ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اور بھی زیادہ ہے۔

کویت کے امیر شیخ مشعل نے لیا سخت فیصلہ

واضح رہے کہ شیخ مشعل الاحمد دسمبر 2023 میں کویت کے امیر بنے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا اور آئین کے کچھ حصوں کو بھی معطل کر دیا۔ اب امیر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ہی کویت کا شہری مانا جائے گا جن کا یہاں کے لوگوں کے ساتھ خون کا رشتہ ہے۔ امیر نے اپنے ایک خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ کویت میں رہنے والے تقریباً 50 لاکھ لوگوں میں صرف ایک تہائی ہی اصلی کویتی ہیں۔ امیر نے کہا کہ اب یہاں صرف اصل کویتی ہی رہیں گے۔

بینکنگ، تعلیم، سرکاری نوکری اور دیگر سہولتیں کالعدم قرار

ویسے کویت میں پہلے سے بھی ایسے تمام لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس یہاں کی شہریت نہیں ہے۔ 1961 میں برطانوی قبضے سے آزاد ہونے کے بعد تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو شہریت نہیں مل پائی تھی۔ وہیں جن لوگوں کے پاس کویت کی شہریت نہیں ہوگی ان کو بینکنگ، تعلیم، سرکاری نوکری اور دیگر سہولتیں بھی نہیں مل پائیں گی۔ کویت میں 1987 کے بعد سے جن لوگوں کو شادی کی بنیاد پر شہریت ملی ہے، حکومت ان پر کارروائی کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1992 سے 2020 تک 38505 خواتین کو شادی کی بنیاد پر یہاں کی شہریت دی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read