وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو نیتی آیوگ کی دسویں گورننگ کونسل کی میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے مرکز اور تمام ریاستوں کو ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جب ہر ریاست ترقی کرے گی، تبھی ہندوستان ایک ترقی یافتہ قوم بن سکے گا۔

ریاستوں کی شراکت داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان میں تیزی سے شہری کاری ہو رہی ہے اور اس بدلتے تناظر میں ہمیں مستقبل کے لیے تیار شہروں کی سمت میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’ترقی، جدت اور پائیداری کو ہمارے شہروں کے فروغ کا انجن بننا چاہیے۔‘‘
مودی نے کہا کہ ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کا خواب 140 کروڑ شہریوں کی مشترکہ خواہش ہے اور اس کے حصول کے لیے ہمیں ریاستوں کی شراکت داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق، اگر مرکز اور تمام ریاستیں ’ٹیم انڈیا‘ کی طرح متحد ہو جائیں تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں۔
اسٹالن نے مرکز سے مزید فنڈز کا مطالبہ کیا
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے مرکز سے ریاست کے لیے مزید فنڈز فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ ان کی ریاست کے پاس ہریانہ کو دینے کے لیے پانی موجود نہیں ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی میں سہ لسانی پالیسی پر مرکز سے اختلاف رکھنے والی ڈی ایم کے نے فنڈز کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی وجہ سے ریاست کو دی جانے والی 2,000 کروڑ روپے سے زائد کی رقم روک لی گئی ہے۔
اپنے حق کے فنڈ کے لیے جدوجہد کرنا مناسب نہیں
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیتی آیوگ کی دسویں گورننگ کونسل میٹنگ میں بات کرتے ہوئے ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ بھارت جیسے وفاقی جمہوریت میں یہ مناسب نہیں کہ ریاستوں کو اپنے جائز فنڈز کے لیے جدوجہد، بحث یا مقدمہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاستوں اور ملک دونوں کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
ایم کے اسٹالن نے منقسم ٹیکس محصولات میں ریاستوں کا حصہ بڑھا کر 50 فیصد کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ 15ویں مالیاتی کمیشن نے منقسم ٹیکس محصولات کا 41 فیصد ریاستوں کے ساتھ بانٹنے کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے چار سالوں میں مرکز نے مجموعی ٹیکس آمدنی کا صرف 33.16 فیصد ہی ریاستوں کے ساتھ بانٹا ہے۔
راوی، بیاس اور ستلج میں پہلے ہی پانی کی قلت ہے
دوسری جانب ہریانہ کو پانی فراہم کرنے کے مسئلے پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ راوی، بیاس اور ستلج دریاؤں میں پہلے سے ہی پانی کی کمی ہے اور پانی کو ایسے علاقوں میں بھیجنا چاہیے جہاں قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بارہا یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ یمنا کے پانی کی تقسیم سے متعلق بات چیت میں اسے شامل کیا جائے، کیونکہ یمنا-ستلج-لنک منصوبے کے تحت ایک معاہدہ ہوا تھا، جس پر 12 مارچ 1954 کو اس وقت کے پنجاب اور اترپردیش کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔ اس کے تحت پنجاب کو یمنا کے دو تہائی پانی کا حق دیا گیا تھا۔ بھگونت مان نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں یمنا سے سیراب ہونے والے علاقوں کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی تنظیم نو سے قبل راوی اور بیاس کی طرح یمنا بھی پنجاب سے ہو کر گزرتی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

