لاتیہار میں پپو لوہرا سمیت دو نکسلی ڈھیر۔
لاتیہار: جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع کے تحت اِچوار جنگل میں ہفتہ کی صبح پولیس کے ساتھ تصادم میں 10 لاکھ کا انعامی پپو لوہرا سمیت دو نکسلی مارے گئے۔ مارے گئے دوسرے نکسلی کی شناخت پربھات لوہرا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق کالعدم تنظیم جھارکھنڈ سنگھرش مکتی مورچہ سے تھا۔
تصادم کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی ٹیم جنگل کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ بتایا گیا کہ لاتیہار کے قریب نکسلیوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد ایس پی کمار گورو کی قیادت میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی ایک ٹیم نے جنگل میں تلاشی مہم شروع کی۔
دونوں طرف سے فائرنگ میں مارے گئے دو نکسلی
صبح 8 بجے کے قریب، اچوار جنگل میں پولیس اور جے جے ایم پی نکسلائٹ اسکواڈ کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں طرف سے فائرنگ میں دو نکسلی مارے گئے، جبکہ کئی دیگر جنگل کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ مارے گئے نکسلیوں کی شناخت بعد میں پپو لوہرا اور پربھات لوہرا کے طور پر ہوئی۔ جائے وقوعہ سے ایک اے کے 47 سمیت کئی ہتھیار اور نکسلیوں کے سامان برآمد ہوئے ہیں۔
بڑی واردات کو انجام دینے والے تھے نکسلی: پولیس
پولیس کے مطابق نکسلی ایک بڑی واردات کو انجام دینے کے ارادے سے جمع ہوئے تھے۔ پپو لوہرا جس کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام ہے، اس کے خلاف جھارکھنڈ کے کئی تھانوں میں نکسلی واقعات کے کیس درج ہیں۔ 28 ستمبر 2021 کو، لاتیہار ضلع کے سلایا جنگل میں سیکورٹی فورسز اور پپو لوہرا کے دستے کے درمیان انکاؤنٹر ہوا تھا، جس میں بی ایس ایف کے ڈپٹی کمانڈنٹ راجیش کمار شہید ہو گئے تھے۔ اس انکاؤنٹر میں ایک نکسلی بھی مارا گیا تھا۔
21 اپریل کوپریاگ مانجھی سمیت آٹھ نکسلی مارے گئے تھے
اس سے پہلے 21 اپریل کو جھارکھنڈ کے بوکارو ضلع کے لالپانی کے لوگو پہاڑی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں ایک کروڑ روپے کا انعامی نکسلی کمانڈر پریاگ مانجھی سمیت آٹھ نکسلی مارے گئے تھے۔ جھارکھنڈ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے مختلف علاقوں میں نکسلیوں کے خلاف مسلسل آپریشن چلایا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


