Bharat Express DD Free Dish

Aatmanirbhar Bharat: جانیے مودی سرکار کے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ وژن نے آپریشن سندور کی کامیابی میں کیسے ادا کیا اہم کردار

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 25 ستمبر 2014 کو شروع کی جانے والی ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کا مقصد ہندوستان کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودکفیل بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد جوابی کاررائی کے طور پر ’’آپریشن سندور‘‘ نہ صرف ایک جوابی فوجی کارروائی تھی بلکہ ہندوستان کی دفاعی خود انحصاری کی ایک طاقتور علامت بھی تھا۔ اس آپریشن کے دوران مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ٹیکنالوجیز، جیسے کہ ڈرونز، میزائل نظام، اور فضائی دفاعی پلیٹ فارمز نے وہ کارکردگی دکھائی جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ ’’آتم نربھر بھارت‘‘ مہم کے تحت تیار کی گئی یہ صلاحیتیں پاکستان کو ترکی اور چین جیسے ممالک سے فراہم کردہ آلات سے کہیں بہتر ثابت ہوئیں۔

میک ان انڈیا: دفاعی شعبے میں انقلابی تبدیلی

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 25 ستمبر 2014 کو شروع کی جانے والی ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کا مقصد ہندوستان کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودکفیل بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ گزشتہ دہائی میں اس مہم نے دفاعی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں دفاعی پیداوار ₹1.27 لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی، جو 2014-15 کے مقابلے میں 174 فیصد اضافہ ہے۔

بجٹ اور پالیسی اقدامات

مرکزی حکومت نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو 2013-14 میں ₹2.53 لاکھ کروڑ تھا اور 2025-26 میں بڑھ کر ₹6.81 لاکھ کروڑ ہو گیا۔ 2023-24 میں جدید کاری کے بجٹ کا 75 فیصد حصہ ملکی کمپنیوں سے خریداری کے لیے مختص کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ اندرون ملک تیار شدہ ہتھیاروں اور آلات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

iDEX، PLI اور MAKE منصوبے: اختراع کی نئی جہتیں

’’انوویشنز فار ڈیفنس ایکسیلنس‘‘ (iDEX) پروگرام نے 2018 سے لے کر اب تک 619 اسٹارٹ اپس اور MSMEs کو شامل کیا ہے اور 430 سے زائد معاہدے کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کوانٹم کمیونیکیشن، 4G/LTE نیٹ ورکنگ اور اسمارٹ بریکنگ سسٹمز جیسی جدید اختراعات سامنے آئی ہیں۔

2021 میں شروع کی گئی ڈرونز کے لیے پیداوار پر مبنی ترغیبی (PLI) اسکیم نے بھی تیزی سے مقامی پیداوار کو فروغ دیا ہے۔ ’’آپریشن سندور‘‘ میں استعمال ہونے والے ڈرونز ناگسترا-1 اور اسکائی اسٹرائیکر نے ثابت کیا کہ ہندوستان عالمی ڈرون مارکیٹ میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت بن چکا ہے۔ وہیں “MAKE” اسکیم، جس میں تین اقسام شامل ہیں (MAKE-I، MAKE-II، اور MAKE-III) کے تحت درآمدی اشیاء کے متبادل کی تیاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور حکومتی فنڈنگ سے دفاعی سازوسامان کی ترقی بھی جاری ہے۔

SRIJAN اور انڈیجینائزیشن لسٹس

2020 میں شروع کیے گئے ’’سریجن‘‘ ویب پورٹل نے درآمدی اشیاء کو مقامی سطح پر بنانے کی راہ ہموار کی۔ اب تک 38,000 اشیاء میں سے 14,000 سے زائد کو ہندوستانی صنعتوں نے کامیابی سے مقامی طور پر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ ’’پازیٹو انڈیجینائزیشن لسٹس‘‘ میں شامل 5,500 سے زائد اشیاء میں سے 3,000 سے زائد اشیاء — جن میں رائفلز، ریڈارز، ہیلی کاپٹرز شامل ہیں — اب ملک میں ہی تیار کی جا رہی ہیں۔

آپریشن سندور: ٹیکنالوجی کی فتح

’’آپریشن سندور‘‘ ایک عسکری کارروائی سے بڑھ کر ایک عملی مظاہرہ تھا کہ کس طرح ہندوستان اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے خود پر انحصار کر سکتا ہے۔ اس آپریشن میں ناگسترا-1 اور اسکائی اسٹرائیکر ڈرونز نے نگرانی اور نشانہ لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آکاش میزائل سسٹم نے نہ صرف دشمن کے ڈرونز بلکہ لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کو بھی کامیابی سے روکا، جو کہ ترک اور چینی سسٹمز سے بہتر کارکردگی تھی۔ وہیں ’’پِنَاکا‘‘ راکٹ لانچر، جو 44 سیکنڈ میں 72 راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس آپریشن میں اہم ہتھیار رہا۔

دفاعی راہداریاں اور عالمی موجودگی

تمل ناڈو اور اتر پردیش میں بنائی گئی دفاعی صنعتی راہداریاں تیزی سے سرمایہ کاری کا مرکز بن رہی ہیں۔ اب تک ₹8,658 کروڑ کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جب کہ مستقبل میں ₹53,000 کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کی دفاعی برآمدات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے، جو 2013-14 کے ₹686 کروڑ سے بڑھ کر 2023-24 میں ₹21,083 کروڑ تک جا پہنچی ہیں۔ امریکہ جیسے ممالک بھی ہندوستانی اسلحہ خرید رہے ہیں، جو اس کے معیار اور کم لاگت کی دلیل ہے۔

پالیسی اصلاحات اور مستقبل کا روڈ میپ

2020 میں حکومت نے دفاعی شعبے میں FDI کی حد کو 74 فیصد تک بڑھا دیا، جس کے بعد سے اب تک ₹5,516 کروڑ کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ وڈودرا میں ٹیٹا ایئرکرافٹ کمپلیکس کا قیام اور Defence Testing Infrastructure Scheme (DTIS) کے تحت نئی ٹیسٹنگ سہولیات، ہندوستان کی ایرو اسپیس صلاحیتوں کو مزید وسعت دے رہی ہیں۔ وہیں 2025 کے ’’ایرو انڈیا‘‘ شو میں ’’منتھن‘‘ ایونٹ کے دوران 33 ملکی مصنوعات کی نمائش کی گئی، جن میں کئی iDEX منصوبے بھی شامل تھے، جو کہ نجی شعبے اور حکومتی اداروں کی شراکت کا مظہر تھے۔

’’آپریشن سندور‘‘ نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا کہ ہندوستان نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ ایک عسکری طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جو اپنی ضروریات خود پوری کر سکتا ہے۔ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی، اور اختراع میں یہ خود کفالت نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار، اور عالمی اثر و رسوخ کو بھی بڑھاتی ہے۔ اور 2030 اور اس سے آگے کے لیے ہندوستان کا ہدف واضح ہے: ایک مضبوط، خود انحصار اور عالمی سطح پر بااثر دفاعی طاقت بننا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read