Bharat Express DD Free Dish

Indo-Pak Clash: ایس جی پی سی نے گرو گرنتھ صاحب کے مقدس مسودوں کو محفوظ مقامات پر کیا جائے گا منتقل، سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان لیا گیا فیصلہ

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایس جی پی سی نے سرحدی علاقوں کے گرودواروں سے گرو گرنتھ صاحب کی مقدس کاپیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) نے سرحدی دیہاتوں میں موجود گرودواروں سے گرو گرنتھ صاحب کی مقدس کاپیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم سرحد پر کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاکہ مقدس صحیفوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

گرودوارہ ستلانی صاحب کے گرنتھی کشمیر سنگھ نے کہا ’’سرحد پر موجودہ صورت حال کے پیش نظر ہم ان مقدس سروپوں کو اپنے ساتھ محفوظ مقام پر لے جا رہے ہیں۔‘‘ آئی اے این ایس کی خبر کے مطابق گرنتھی کشمیر سنگھ نے بتایا کہ یہ فیصلہ سکھوں کے مقدس صحیفوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایس جی پی سی نے اس عمل کو پورے وقار کے ساتھ مکمل کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

اکال تخت کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے یہ قدم

واضح رہے کہ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کا ماحول ہے، کیوں کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدہ ہوئے ہیں۔ ایسے میں مذہبی مقامات اور مقدس کتابوں کی حفاظت ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایس جی پی سی نے یہ قدم اکال تخت صاحب کی ہدایات کے تحت اٹھایا ہے، جو سکھ برادری کا سب سے بڑا مذہبی ادارہ ہے۔ مقامی لوگوں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔ ایس جی پی سی نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read