Urdu Conclave 2026

15 civilians killed: کشمیر میں سرحد پر پاکستانی فوج کی بمباری میں 15 شہریوں کی جانیں گئیں، 43 سے زیادہ زخمی، بھارتی فوج بھی دے رہی ہے منہ توڑ جواب

فائل فوٹو۔

اے این آئی نے بدھ کے روز دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کل رات سے پاکستانی فوج کی طرف سے جاری بمباری 15 معصوم شہری ہلاک اور 43 زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ایل او سی پر پونچھ اور ٹنگدھر میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاک گولہ باری سے سرحدی شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

آپریشن سندھ کے بعد پاکستانی فوج نے بدھ کے روز جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ حکام نے بتایا کہ گولہ باری سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ پاکستان کی گولہ باری سے شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا اور کئی گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے اور دیواریں ٹوٹ گئیں۔

دریں اثنا جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرحدی علاقوں کی موجودہ صورت حال پر حکام کے ساتھ ہنگامی میٹنگ بھی کی۔ اس سے قبل دن میں وزیر داخلہ امت شاہ نے عمر عبداللہ اور ایل جی منوج سنہا سے شہریوں کو بنکروں میں شفٹ کرنے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

بھارتی فوج نے 23 پاکستانی فوجیوں کو مار گرایا  

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوجیوں کی بمباری کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہندوستانی فوج نے صبح 1:30 بجے سے صبح 6:00 بجے تک زبردست جوابی کارروائی کی اور پاکستانی چوکیوں پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی۔ اس جوابی حملے میں پاک فوج کے 25 جوان زخمی ہوئے جن میں سے 23 کی موت ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (POJK) کے ضلع بھمبر کے جنرل ہسپتالوں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق بھارت کی جوابی کارروائی میں 15 سے 20 شہریوں کی ہلاکت کی بھی خبر ہے۔ حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ہندوستانی فوج لگاتار پاکستانی بمباری کا مقابلہ کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔