Bharat Express DD Free Dish

The cause of the explosion in Iran revealed: رجائی بندرگاہ میں دھماکے کی وجہ سامنے آگئی، اموات کی تعداد 40 تک جا پہنچی، اسرائیل پر شک کی نگاہ

ایران کے بندرگاہ میں لگی آگ اب بھی سلگ رہی ہے،  ایرانی رکن پارلیمنٹ محمد سراج نے حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکہ سازش کے تحت کیا گیا حملہ تھا اور میں اسرائیلی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے ایک ذرائع نے ’نیویارک ٹائمز‘ کو بتایا ہے کہ بندر عباس شہر کی شہید رجائی بندرگاہ پر دھماکہ سوڈیم پرکلوریٹ کے ذخائر میں ہوا۔ یہ مواد ٹھوس میزائل ایندھن کا ایک اہم جزو تھا۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سکیورٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ دھماکوں میں بڑی مقدار میں بارودی مواد تباہ ہوا ہے۔

ایران کی سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق پورٹ بندر عباس میں ہوئے شدید دھماکے میں اب تک 40 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ 1200 سے زیادہ زخمی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو پورٹ کے شہید رجائی بلاک میں دھماکہ ہوا جو ایران کا سب سے بڑا کنٹینر سینٹر ہے۔ دھماکہ سے آس پاس کے کئی کلومیٹر تک کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ شپنگ کنٹینروں کی لوہے کی پٹیاں ٹوٹ گئیں اور اندر رکھا سامان بُری طرح سے تباہ ہو گیا۔ دھماکہ کتنا خوفناک تھا اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے دو دن بعد بھی اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

سکیورٹی فرم ’ایمبرے‘ نے اطلاع دی ہے کہ دھماکہ بندرگاہ پر سوڈیم پرکلوریٹ کے نامناسب ذخیرہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ فنانشل ٹائمز نے جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ چین نے کیمیکل ایران کو بھیج دیا تھا، جس کے میزائل ایندھن کا ذخیرہ گذشتہ سال اس وقت ختم ہو گیا تھا جب ایران اور اس کی پراکسی حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔

پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق یہ بندرگاہ ایران کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے جو گذشتہ سال ملک کے 85 فیصد کنٹینر شپنگ ٹریفک کے ساتھ ساتھ اس کے تیل کا ایک اہم حصہ سنبھالتی ہے۔

 بندرگاہ کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے سے ملکی معیشت کو شدید نقصان

قابل تجدید توانائی کے سرمایہ کار اور اقتصادی تجزیہ کار عبداللہ باباخانی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ “جسمانی اور آپریشنل نقصان کی وجہ سے اس اسٹریٹجک بندرگاہ کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے”۔ زہریلے فضائی آلودگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی وزارت صحت نے صوبہ ہرمزگان میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا، لوگوں سے گھر کے اندر رہنے، کھڑکیاں بند کرنے اور ماسک پہننے کی تاکید ہے۔ بندر عباس بندرگاہ پر ہرمز کے ساتھ ایک اسٹریٹجک مقام کا حامل ہے، جہاں خلیج فارس خلیج عمان سے ملتی ہے۔یہ دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کے لیے ایک مصروف جہاز رانی کا راستہ ہے۔ 2020ء میں اسرائیل نے ایک سائبر حملہ شروع کیا جس نے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے جاری خفیہ جنگ کے ایک حصے کے طور پر شہید رجائی بندرگاہ پر کارروائیوں میں خلل ڈالا۔

ٹرمپ نے تہران کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کو ترجیح دی

یہ دھماکا ایسے وقت ہوا جب امریکی اور ایرانی حکام نے ہفتے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے تیسرے دور کی میٹنگ شروع کی۔ گذشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ اسرائیل اگلے ماہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے لیکن ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے تہران کے ساتھ معاہدے پر بات چیت کو ترجیح دی۔ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے۔

دھماکہ سازش کے تحت کیا گیا حملہ:ایرانی رکن پارلیمنٹ

اس درمیان ایرانی رکن پارلیمنٹ محمد سراج نے حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ سراج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکہ سازش کے تحت کیا گیا حملہ تھا اور میں اسرائیلی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ ادھر حکومت نے صوبہ میں تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ محمد سراج نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ ہمارے پاس واضح ثبوت ہیں کہ اسرائیل اس دھماکہ میں شامل ہے۔ کنٹینروں میں پہلے سے دھماکہ خیز مواد لگائے گئے تھے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اس میں داخلی گروپس کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔ سراج کے مطابق دھماکے چار الگ الگ مقامات پر ہوئے جو سازش کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دعویٰ کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا۔

وہیں دوسری طرف اسرائیلی افسروں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اسرائیل حکومت نے بھی فی الحال اس سلسلے میں کوئی بھی سرکاری رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read