Bharat Express DD Free Dish

Tahawwur Rana: ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور رانا نے اپنے خاندان سے بات کرنے کی اجازت مانگی، عدالت نے این آئی اے سے مانگا جواب

ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور حسین رانا نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

تصویر: آئی اے این ایس

ممبئی 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور حسین رانا نے اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ رانا نے اس سلسلے میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ خصوصی این آئی اے عدالت نے اس معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے اور سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

تہور رانا نے 19 اپریل کو اپنے وکیل کے ذریعے این آئی اے عدالت کی خصوصی جج ہردیپ کور کے سامنے عرضی داخل کی، جس نے پیر کو این آئی اے کو 23 اپریل تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ اس سے قبل 64 سالہ پاکستانی نژاد کینیڈین تاجر تہور رانا کو 10 اپریل کو عدالت نے 18 دن کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔ فی الحال تہور رانا سے این آئی اے کی پوچھ تاچھ لگاتار جاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ممبئی حملے کے ملزم تہور رانا کی ہندوستان کو حوالگی کی منظوری کے بعد اسے ہندوستان لایا گیا ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق وہ فی الحال پوچھ گچھ کے لیے این آئی اے کی حراست میں ہے۔ رانا پر ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے، قتل، جعلسازی کے دو مقدمات اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے ارتکاب سمیت مختلف جرائم کے الزامات ہیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والا تہور رانا کینیڈا کا شہری ہے۔ وہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کا قریبی ساتھی ہے، جو 26/11 ممبئی حملوں کے اہم سازشیوں میں سے ایک ہے۔ رانا 2023 میں اپنی 14 سال کی سزا پوری کرنے کے بعد ہندوستان لائے جانے سے قبل لاس اینجلس کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز میں زیر حراست تھا۔ رانا پر سب سے پہلے ریاستہائے متحدہ کی عدالت میں شمالی ضلع الینوائے میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں جیوری نے رانا کو لشکر طیبہ کو مادی مدد فراہم کرنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read