آئی پی ایس افسر نورالہدیٰ نے وقف قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سیتامڑھی، بہارکے رہنے والے اور1995 بیچ کے ایک سینئرآئی پی ایس افسرنورالہدیٰ نے وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈین پولیس سروس سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنی دیانتداری اورایمانداری کی شناخت رکھنے والے آئی پی ایس نورالہدیٰ سماجی کاموں میں بھی گہرائی سے شامل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، نورالہدیٰ اپنے آبائی گاؤں میں تقریباً 300 محروم بچوں کو مفت میں تعلیم فراہم کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ تعلیم حقیقی طور پربااختیار بنانے کی کنجی ہے۔
اپنے شاندارکیریئر کے دوران، نورالہدیٰ نے کئی حساس اور ہائی پریشر والے علاقوں میں کام کیا، جن میں دھنباد، آسنسول او دہلی ڈویژن شامل ہیں۔ ریلوے سیکورٹی، نکسل کنٹرول اورجرائم کی روک تھام میں اختراعی حکمت عملیوں کونافذ کرنے کا سہرا انہیں کے سرجاتا ہے۔ ان کی مثالی خدمات کے لیے انھیں دومرتبہ باوقاروششٹ سیوا میڈل اوردوبارڈائریکٹرجنرل چکرسے نوازا گیا۔
سیاست میں قدم رکھ سکتے ہیں آئی پی ایس نورالہدیٰ
کئی دہائیوں تک وردی میں خدمات انجام دینے کے بعد، سینئرآئی پی ایس افسرنورالہدیٰ نے اب ایک نیا راستہ اختیارکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی خاکی وردی اتارنے کے بعد، وہ کھادی پہن کرعوامی زندگی میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہے۔ سیاست میں آنے کا ان کا فیصلہ ایک وسیع پلیٹ فارم پراپنی قوم اورملک دونوں کی خدمت کرنے کی خواہش سے متاثرہے۔ اپنے انتظامی تجربے، نچلی سطح پرمصروفیت اورانصاف کے لئے وابستگی کے ساتھ، وہ جمہوری ذرائع سے بامعنی تبدیلی لانے کی امید رکھتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں 5 مئی کو ہوگی سماعت
واضح رہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ا راکین پارلیمنٹ اورمسلم تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں وقف قانون کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں 16 اور 17 اپریل کو ہوئی سماعت کے بعد مرکزی حکومت کو 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ قانون کے نفاذ سے متعلق عبوری حکم دیتے ہوئے کسی بھی تقرری پر پابندی عائد کردی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت سپریم کورٹ میں اپنا کیا جواب داخل کرتی ہے اور پھر اس کے خلاف عرضی داخل کرنے والے لیڈران اور تنظیمیں کیا حکمت عملی تیار کرتی ہیں، لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ عدالت نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے حکومت اور عرضی گزاروں دونوں کو سخت سوال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



