Bharat Express DD Free Dish

Vinesh Phogat’s blunt response: حق چھینا نہیں، جیتا جاتا ہے، اولمپیئن اور کانگریس رکن اسمبلی ونیش پھوگاٹ نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ان ہی کے انداز میں دیا دو ٹوک جواب

بی جے پی حکومت سے انعام لینے پر تنقید کے بعد ونیش پھوگاٹ نے ’ایکس‘ پر سخت لہجے میں جواب دیا، کہا، ’’کروڑوں کے آفر ٹھکرائے، اصولوں کا سودا نہیں کیا، حق جیتنا سیکھا ہے‘‘

اولمپیئن اور کانگریس کے رکن اسمبلی ونیش پھوگاٹ نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ان ہی کے انداز میں دو ٹوک جواب دیا ہے۔ جولانہ (ہریانہ) سے کانگریس ایم ایل اے ونیش پھوگاٹ کو حال ہی میں ہریانہ کی بی جے پی حکومت کی جانب سے 4 کروڑ روپے اور ایک پلاٹ دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر انہیں انعام لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس پر جواب دیتے ہوئے ونیش پھوگاٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’2 روپے لے کر ٹوئٹ کرنے والوں اور مفت کا گیان بانٹنے والوں، دھیان سے سنو۔ میں اب تک کروڑوں کے آفر ٹھکرا چکی ہوں—چاہے وہ سافٹ ڈرنکس ہوں یا آن لائن گیمنگ، لیکن اصولوں کا سودا کبھی نہیں کیا۔ جو کچھ بھی حاصل کیا، وہ محنت، ایمانداری اور اپنوں کی دعاؤں سے حاصل کیا، اور اسی پر فخر ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا، ’’تک مانگنے کا سوال ہے، میں اس دھرتی کی بیٹی ہوں جہاں عزت نفس ماں کے دودھ میں ملتی ہے۔ مجھے حق چھیننا نہیں، جیتنا آتا ہے۔ میں اپنے اپنوں کو پکارنا بھی جانتی ہوں اور ان کے لیے دیوار بن کر کھڑا ہونا بھی۔‘‘

ونیش پھوگاٹ نے اپنی پوسٹ کے آخر میں ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’چپ رہو، کونے میں بیٹھو اور وہی کرو جس میں تم اچھے ہو—روؤ، روؤ اور بس روؤ! کیونکہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔ ہم یہیں ہیں، زمین سے جڑے، غیر متزلزل، اور عزت نفس کے ساتھ کھڑے ہوئے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read