ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ تہور رانا سے تقریباً 4 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔
Tahawwur Rana Extradition: ممبئی کے 26/11 دیشت گردانہ حملے کا ماسٹرمائنڈ تہور رانا اس وقت این آئی اے کی حراست میں ہے۔ ذرائع کے مطابق، جمعہ کے روز (11 اپریل، 2025) کو اس سے 4 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی، لیکن اس نے جانچ میں تعاون نہیں کیا۔ تہور رانا سے پوچھ گچھ صبح 11:15 بجے شروع ہوئی تھی۔ اسے تقریباً 11:10 بجے اس کی سیل سے نکال کرانٹروگیشن روم میں لے جایا گیا تھا۔
ملزم بناتا رہا بیماری کا بہانہ
اس سے پہلے تقریباً 10:30 سے 11 بجے کے درمیان این آئی اے افسران کی ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس میں تہور رانا سے پوچھ گچھ سے متعلق ایک خاکہ تیارکیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، تہور رانا پوچھ گچھ میں اپنی بیماری کا حوالہ دے کر جانچ سے بچنے کی کوشش کررہا ہے۔ عدالت نے امریکہ سے حوالگی کے بعد تہور رانا کو 18 دنوں کی این آئی اے حراست میں بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد اسے جمعہ کی صبح این آئی اے ہیڈ کوارٹرلایا گیا۔
دوسرے شہروں میں بھی حملے کی کررہا تھا پلاننگ
این آئی اے تہور رانا سے ان سبھی پہلوؤں پر جانکاری حاصل کرنا چاہتی ہے، جو ہندوستان میں دہشت گردانہ نیٹ ورک اور 26/11 حملے کی سازش سے جڑے ہیں۔ تہور رانا پر ڈیوڈ کولمین ہیڈلی، لشکرطیبہ (ایل ای ٹی)، حرکت الجہادی اسلامی اور پاکستان کے دیگر دہشت گردوں کے ساتھ مل کر 2008 میں ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے کی سازش کرنے کا الزام ہے۔ جانچ ایجنسی کو اس بات کا خدشہ ہے کہ تہور رانا نے ہندوستان کے کئی شہروں کونشانہ بنانے کے لئے 26/11 ممبئی حملوں جیسی دہشت گردانہ سازش کی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں این آئی اے کو ہر 24 گھنٹے میں تہور رانا کا میڈیکل چیک اپ کرانے اور ہردوسرے دن اسے اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا تھا۔
دہلی، کوچی احمدآباد سمیت ان شہروں کا کیا دورہ
این آئی اے کے مطابق، تہور رانا نے 13 نومبر سے 21 نومبر 2008 کے درمیان اپنی اہلیہ سمراج رانا اختر کے ساتھ اترپردیش کے ہاپوڑ اور آگرہ، دہلی، کوچی، احمدآباد اور ممبئی کا دورہ کیا تھا۔ اس کا یہ دورہ پورے ملک میں دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی ایک بڑی سازش ہوسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


