راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس اسی) سے وابستہ انگریزی میگزین ’’آرگنائزر‘‘نے اپنا ایک مضمون واپس لے لیا ہے جس میں کیتھولک گرجا گھروں اور وقف بورڈ کے درمیان زمین کی ملکیت کا موازنہ کیا گیا تھا۔ میگزین نے یہ مضمون اپنی ویب سائٹ ایسے وقت میں ہٹایا ہے کہ جب راہل گاندھی اور کیرالہ کے وزیر اعظم پنارائی وجین نے دعویٰ کیا ہے کہ وقف ترمیمی بل کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اب عیسائیوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت نریندر مودی حکومت کی جانب سے وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے بعد ہوئی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں بحث کے دوران اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ نے لگاتار کہا کہ وقف بل کے ذریعے حکومت کا اصل ہدف اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانا ہے اور مسلمانوں کے بعد اگلا نمبر عیسائیوں کا آ سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیرالہ کیتھولک بشپس کونسل نے وقف بل کی حمایت کی تھی۔
’’آرگنائزر‘‘ نے اپنی ویب سائٹ سے ہٹایا مضمون
اس درمیان ’’آرگنائزر‘‘ نے اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی ہے۔ حذف شدہ مضمون کا عنوان تھا ’’بھارت میں کس کے پاس زیادہ زمین ہے؟ کیتھولک چرچ بمقابلہ وقف بورڈ بحث‘‘۔ اس مضمون میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں کیتھولک چرچ سات کروڑ ہیکٹر سے زیادہ زمین کا ملاک ہے، جو اسے حکومت کے بعد سب سے زیادہ زمینوں کا مالک بناتا ہے۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ کیتھولک چرچ کی جائیدادوں کی تخمینہ قیمت بیس ہزار کروڑ روپے کے قریب ہے، جس کی وجہ سے چرچ ہندوستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں وقف بورڈ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا بی جے پی کا مقصد صرف اقلیتوں کو نشانہ بنانا ہے
اس مضمون کے پس پردہ بی جے پی کے مقصد پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف بی جے پی کے اقدامات کا واضح نمونہ ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’میں نے کہا تھا کہ وقف بل ابھی صرف مسلمانوں پر حملہ ہے لیکن یہ مستقبل میں دوسری کمیونٹیز کو نشانہ بنانے کی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ آر ایس ایس کو عیسائیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ آئین واحد ڈھال ہے جو ہمارے لوگوں کو اس طرح کے حملوں سے بچاتا ہے اور اس کا دفاع کرنا ہمارا اجتماعی فرض ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
