Bharat Express DD Free Dish

Cash at judge’s door case 2008: عدالت نے 2008 میں جج کے دروازے پر نقدی ملنے کے مقدمے میں جسٹس نرمل یادو اور دیگر ملزمین کو بری کیا

بری کیے گئے دیگر افراد میں رویندر سنگھ، راجیو گپتا اور نرمل سنگھ شامل ہیں۔ ملزمان میں سے ایک سنجیو بنسل، ہریانہ کے سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مقدمے کی سماعت کے دوران ہی چل بسے تھے۔

چندی گڑھ میں سی بی آئی کی ایک عدالت نے ریٹائرڈ جسٹس نرمل یادو اور تین دیگر کو 2008 کے مشہور ’’جج کے دروازے پر نقد‘‘ پیسے ملنے سے متعلق کیس میں استغاثہ کی جانب سے ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ بری کیے گئے دیگر افراد میں رویندر سنگھ، راجیو گپتا اور نرمل سنگھ شامل ہیں۔ ملزمان میں سے ایک سنجیو بنسل، ہریانہ کے سابق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مقدمے کی سماعت کے دوران ہی چل بسے تھے۔

کیا تھا معاملہ؟

یہ کیس 2008 میں شروع ہوا تھا جب 15 لاکھ روپے سے بھرا ہوا ایک بیگ غلطی سے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی ایک موجودہ جج جسٹس نرمل جیت کور کے گھر پہنچایا گیا تھا۔ جسٹس کور کی رہائش گاہ کے چپراسی امر سنگھ نے پولیس کو بتایا کہ 13 اگست 2008 کو رات 8.30 بجے کے قریب پرکاش رام پلاسٹک کا تھیلا لے کر جسٹس کور کے گھر پہنچا اور اس سے کہا کہ ’’جسٹس کور کے لیے دہلی سے کاغذات آئے ہیں‘‘۔ سنگھ بیگ کو اندر لے گیا اور جسٹس کور کی ہدایت پر اس نے اسے کھول کر دیکھا تو اندر کرنسی نوٹ تھے۔ لہٰذا اس نے پولیس کو بلایا اور انھوں نے پرکاش رام اور نقدی سے بھرے بیگ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

ابتدائی تحقیقات

ابتدائی طور پر چنڈی گڑھ پولیس نے 16 اگست 2008 کو ایک ایف آئی آر درج کی، تاہم بعد میں چنڈی گڑھ انتظامیہ نے 26 اگست 2008 کو کیس سی بی آئی کو منتقل کر دیا۔ تحقیقات مکمل کرنے کے بعد سی بی آئی نے 18 اپریل 2011 کو چارج شیٹ داخل کی۔ چارج شیٹ کے مطابق پیسوں سے بھرا ہوا وہ بیگ جسٹس نرمل یادو کے نام پر تھا، جو کہ غلطی سے نرمل جیت کور کے گھر پہنچ گیا تھا۔

سی بی آئی نے دعویٰ کیا کہ 13 اگست 2008 کو رویندر سنگھ، جسٹس نرمل یادو کو 15 لاکھ روپے بھیجنے والے تھے۔ اس نے یہ رقم دہلی میں سنجیو بنسل کو دی اور چندی گڑھ میں جسٹس یاددو تک پہنچانے کی ہدایت کی۔ تاہم بنسل نے اپنی بیوی کو فون کیا کہ وہ رقم ان کے گھر سے اپنے منشی پرکاش رام کے ذریعے جسٹس یادو کے گھر بھیج دے۔ پرکاش رام کو بنسل کی بیوی نے ’’نرمل جی‘‘ تک پہنچانے کے لیے ایک پیکٹ دیا تھا، لیکن وہ نادانستہ طور پر اس کی بجائے جسٹس نرمل جیت کور کے گھر پہنچ گیا۔

عدالت کا فیصلہ

خصوصی عدالت نے 18 جنوری 2014 کو ملزمان کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ سرکاری وکیل نریندر سنگھ نے دلیل دی کہ استغاثہ نے کیس کو شک سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تاہم جسٹس یادو کے وکیل وشال گرگ نروانا نے دعویٰ کیا کہ سی بی آئی نے انھیں اس کیس میں جھوٹا پھنسایا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی بی آئی نے پہلے اس معاملے میں کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ تاہم عدالت نے بالآخر عدم ثبوت کی بنا پر تمام ملزمان کو بری کر دیا۔

استغاثہ نے 84 گواہوں کا حوالہ دیا تھا جن میں سے 69 پر جرح جاری تھی۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے استغاثہ کو کیس میں مزید 12 گواہوں پر جرح کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس مقدمے میں بری ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس نرمل یادو نے کہا کہ انھیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور یہ فیصلہ سچائی کی جیت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read