Bharat Express DD Free Dish

Bihar Fodder Scam: چارہ گھوٹالہ کے 950 کروڑ روپے کی ہوگی واپسی! بہار حکومت ریکوری کے لے جائے گی عدالت

اس معاملے میں جون 1997 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس گھوٹالے میں سابق وزیر اعلیٰ جگناتھ مشرا کا نام بھی شامل تھا۔

بہار میں چارہ گھوٹالہ معاملے نے پوری ریاست کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت نے آر جے ڈی سپریمو اور سابق سی ایم لالو پرساد یادو کو بھی سزا سنائی ہے۔ اب چارہ گھوٹالے کے معاملے میں ایک نئی معلومات سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بہار حکومت چارہ گھوٹالہ کے 950 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔ اس کے علاوہ نتیش حکومت انکم ٹیکس اور سی بی آئی سے بھی بات چیت کرے گی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ محکمہ انیمل ہسبنڈری کی طرف سے مارے گئے چھاپے کے دوران محکمہ میں 950 کروڑ روپے کا گھپلہ ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ اس معاملے میں جون 1997 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس گھوٹالے میں سابق وزیر اعلیٰ جگناتھ مشرا کا نام بھی شامل تھا۔

29 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی ریکوری نہںی
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چارہ گھوٹالہ  کی جانچ سی بی آئی کو سونپتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ نے غبن کی گئی رقم کو سرکاری کھاتےمیں واپس کرنے کی ذمہ داری دی تھی، جسے گھوٹالے کے ملزمنگ کی جائد اد ضبط کرکے واپس کاب جانا تھا، لکنن 29 سال گزر گئے اور ابھی تک ایک روپہل بھی حکومت کو واپس نہںن کاا گاا۔

رقم کی وصولی آسان نہں اب حکومت نے ایک بار پھر اس معاملے کو اٹھایا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ یہ کام اتنا آسان نہںی ہے، کیوں کہ اس گھوٹالے میں  بڑے بڑے لیڈرر اور افسران شامل ہیں۔ چارہ گھوٹالہ کی جانچ مارچ 1996 میں  پٹنہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو منتقل کر دی تھی۔گزشتہ 29 سالوں سایت دانوں اور افسروں کے خلاف چھان بنو ہوئی اور انہںس جیل بھیجا گیا، کچھ  کو مجرم قرار دیا گیا، لیکن یہ رقم اب تک سرکاری خزانے میں واپس نہںی آئی۔ جانچ ، ضمانت اور دیگر کاررائیوں  کا سلسلہ جاری ہے، تاہم رقم کی واپسی کا کام ابھی تک ادھورا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ اگر نتیش حکومت چارہ گھوٹالہ کا پیسہ واپس لانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ملک بھر میں ایک بڑی پہل ہوگی۔ یہی نہیں، اگر حکومت اس پر کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے تو یہ انتخابی سال میں ایک بڑا انتخابی معاملہ بھی بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی سیاستدان اس معاملے میں ملوث رہے ہیں ان کے نام نئے سرے سے عوام کے سامنے لائے جا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read