ہولی پورے ملک میں منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اتر پردیش اور دہلی سمیت تمام ریاستوں کی پولیس الرٹ موڈ پر ہے۔ جو لوگ نوکری اور کام کے سلسلے میں گھر سے دور رہ رہے تھے وہ گھر پہنچ گئے ہیں تاکہ یہ تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منا سکیں۔
اس بار ہولی جمعہ کو ہے اس لیے ہولی اور جمعہ ایک ساتھ پڑنے کی وجہ سے پولیس کے لیے چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔ ہولی کے موقع پر ملک بھر کے بازاروں میں لوگوں کی بڑی بھیڑ دیکھی گئی۔ لوگوں نے ہولی کے لیے ضروری خریداری کی۔ انہوں نے تمام ضروری چیزیں خریدیں ،جن میں رنگ، مختلف طرح کی پچکاریاں ، گجیا اور مٹھائیاں وغیرہ شامل تھیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہم وطنوں کو ہولی کی مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ خوشیوں اور مسرتوں سے بھرا یہ مقدس تہوار ہر ایک کی زندگی میں نیا جوش اور توانائی لائے۔
25 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات
دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 25 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دارالحکومت میں نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ حساس مقامات پر پولیس اور سیکورٹی فورس کے اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی حساس مقامات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ ہولی کے دن کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں۔ اتر پردیش پولیس نے بھی ہولی کے موقع پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ پولیس نے کئی شہروں میں فلیگ مارچ کیا۔ پولیس افسران نے لوگوں سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اتر پردیش کے تمام شہروں کے علاوہ سنبھل میں بھی پولس افسران نے لوگوں سے بات چیت کی اور پرامن طریقے سے ہولی منانے کی اپیل کی۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔
کئی ریاستوں کی پولیس نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹس یا تبصرے کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ انتظامیہ نے تہوار کو پرامن طریقے سے منانے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


