امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ایلون مسک کے درمیان گرما گرم بحث کی خبروں کی تردید کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس معاملے کے حوالے سے ٹرمپ نے پوسٹ کیا، ’’ایلن اور مارکو کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی بھی بیان فرضی خبر ہے!!!‘‘
ٹرمپ کو یہ وضاحت نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے بعد دینا پڑی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کے روز کابینہ کے اجلاس کے دوران، انتظامیہ کے کوسٹ کٹنگ چیف مسک نے محکمہ خارجہ میں عملے کی نمایاں کمی کو نافذ کرنے میں ناکامی پر روبیو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسک نے مبینہ طور پر روبیو پر ’کسی کو بھی نہیں‘ باہر نکالنے کا الزام لگایا۔
جواب میں، روبیو نے مبینہ طور پر کہا کہ محکمہ خارجہ کے 1,500 سے زیادہ اہلکاروں نے حال ہی میں بائی آؤٹ کے ذریعے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مسک سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان ملازمین کو پھر سے ملازمت پر رکھا جائے تاکہ انہیں دوبارہ برطرف کر دیا جائے۔
سی این این کے مطابق، ٹرمپ سے جب مبینہ جھگڑے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’کوئی جھگڑا نہیں ہوا، میں وہاں موجود تھا۔ ایلون اور مارکو کے درمیان رشتہ بہت اچھا ہے اور وہ دونوں بہت اچھا کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے وفاقی ملازمتوں کو کم کرنے کے لیے اپنی انتظامیہ کی حکمت عملی کا بھی دفاع کیا، فیڈرل ورک فورس کو کم کرنے کے لیے ’ہتھوڑے‘ کے بجائے ’اسکیلپل‘ استعمال کرنے کی بات کی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، کابینہ کے کچھ ارکان نے وائٹ ہاؤس کو ملازمتوں میں کمی کے بارے میں مسک کے نقطہ نظر کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔
مسک کی سربراہی میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (DOGE) نے جب سے جنوری کے آخر میں اپنا کام شروع کیا ہے، تب سے 30,000 سے زیادہ امریکی وفاقی ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے پہلے کہا تھا کہ تقریباً 75,000 وفاقی ملازمین نے ’بائی آؤٹ‘ پلان کو قبول کیا ہے، جس کے تحت ’موخر استعفیٰ‘ کے بدلے آٹھ ماہ کی تنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


