نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کے حالیہ واقعہ کے بارے میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ایک ماہر کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس بھگدڑ میں 18 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 14 خواتین بھی شامل تھیں جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔
درخواست میں کیا مطالبہ کیا گیا؟
پٹیشنر ایڈوکیٹ وشال تیواری نے عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی 2014 کی رپورٹ کو “تقریبات اور اجتماعات کے مقامات پر ہجوم کے انتظام” پر لاگو کریں۔ ریلوے اسٹیشنوں پر حفاظتی اقدامات میں بہتری، جیسے: راہداریوں کو چوڑا کرنا، بڑے اوور برجز اور پلیٹ فارمز کی تعمیر، ریمپ اور ایسکلیٹرز مہیا کرنا، آخری لمحات میں پلیٹ فارم کی تبدیلیوں سے گریز کرنا، اسٹیشن کی گنجائش سے زیادہ ٹکٹوں کی تقسیم نہ کرنا۔
بھگدڑ کی وجہ
عرضی گزار کے مطابق یہ حادثہ پریاگ راج جانے والی ٹرین کے ڈپارچر پلیٹ فارم میں آخری لمحات میں تبدیلی کی وجہ سے پیش آیا۔ اس دوران بھیڑ بے قابو ہوگئی ،جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں پر اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک ہجوم پر قابو پانے کے لیے چار خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں اور اب صورتحال قابو میں ہے۔
حادثہ کیسے ہوا؟
آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ واقعہ رات 9:55 پر پیش آیا، جب ہزاروں عقیدت مند پریاگ راج جانے کے لیے اسٹیشن پر موجود تھے۔ سواتنترتا سینانی ایکسپریس اور بھونیشور راجدھانی ایکسپریس کی تاخیر سے بھیڑ بڑھ گئی۔ ہر گھنٹے میں 1500 جنرل ٹکٹ فروخت ہو رہے تھے ،جس کی وجہ سے بھیڑ بڑھتی رہی۔ پلیٹ فارم نمبر 14 اور 16 کے درمیان ایسکلیٹر کے قریب بھگدڑ مچ گئی۔
اب اس معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی، جس میں ریلوے اور انتظامیہ کی ذمہ داری پر سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
بھار ت ایکسپریتس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


