Bharat Express DD Free Dish

Sikh Riots 1984 Case: کانگریس لیڈرسجن کمار دوسکھوں کے قتل کے معاملے میں قصوروارقرار

1984 سکھ مخالف فسادات کے دوران سرسوتی وہارمیں جسونت سنگھ اوران کے بیٹے ترون دیپ سنگھ کا قتل ہوا تھا۔ اس معاملے میں سجن کمارملزم بنائے گئے۔ اب عدالت نے انہیں قصوروارٹھہرایا ہے۔

سکھ مخالف فسادات 1984میں عمرقید کی سزا کاٹ رہے سجن کمار کا انتقال ہوگیا ہے۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: 1984 سکھ مخالف فسادات سے متعلق کیس میں دہلی کی راؤز ایوینیوکورٹ نے کانگریس لیڈرسجن کمارکوقصوروارقراردیا ہے۔ سجن کمارکی سزا پر18 فروری کو بحث ہوگی۔ یکم نومبر 1984 کو دہلی کے سرسوتی وہار میں جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے ترون دیپ سنگھ کے قتل سے متعلق معاملے میں سجن کمار ملزم تھے۔ اسی معاملے میں عدالت نے بدھ (12 فروری، 2025) کو فیصلہ سنایا۔

سجن کمار پر کیا ہے الزام؟

عدالت نے ملزم سجن کمار کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 147/148/149/302/308/323/395/397/427/436/440 کے تحت جرائم کے لئے الزام طے کیا تھا۔  ایس آئی ٹی نے الزام لگایا کہ سجن کمار مذکورہ  بھیڑ کی قیادت کررہے تھے اور ان کے اکسانے پر بھیڑ نے دونوں لوگوں کو زندہ جلا دیا تھا اور ان کے گھریلو سامان اوردیگرجائیداد کوبھی نقصان پہنچایا۔ سامان کو برباد کردیا اور لوٹ لیا۔

سجن کمارنے الزامات سے کیا تھا انکار

ہجوم نے متاثرین کے گھرکوجلا دیا اوران کے گھرمیں رہنے والے ان کی فیملی کے ممبران اور رشتہ داروں کو سنگین چوٹیں پہنچائیں۔ یکم نومبر 2023 کو عدالت نے معاملے میں سجن کمار کا بیان درج کیا تھا، سجن کمار نے اپنے خلاف لگے سبھی الزامات سے انکار کیا تھا۔ 31 جنوری کو سماعت کے دوران سجن کمار کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ ان کا نام شروع سے ہی نہیں تھا۔ گواہ نے سجن کمار کا نام 16 سال بعد لیا۔

عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں سجن کمار

وہیں سرکاری وکیل نے دلیل دی تھی کہ ملزم کو متاثرہ نہیں جانتی تھی۔ جب اسے پتہ چلا کہ سجن کمارکون ہیں، تواس نے اپنے بیان میں ان کا نام لیا۔ قابل ذکرہے کہ سجن کمارموجودہ وقت میں دہلی کینٹ میں سکھ مخالف فسادات کے ایک دیگرمعاملے میں عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read