امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف تحقیقات کرنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے میں آئی سی سی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو نشانہ بنانے کے ناجائز اور بے بنیاد اقدامات میں ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے ’تیل کے نیٹ ورک‘ کو نشانہ بنانا ہے۔ان اقدامات میں ان کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا جو پہلے ہی امریکا کی جانب سے پابندیوں کا شکار ہیں، سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا نے موجودہ پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے باقاعدگی سے اس طرح کے احکامات جاری کیے تھے۔
امریکی حکام نے ایران پر تیل کی برآمدات سے حاصل رقم نیوکلیئر پروگرام پر استعمال کرنے کا الزام عائد کردیاہے۔وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت اپنے جوہری پروگرام کی ترقی، مہلک بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیارے بنانے اور اپنے علاقائی دہشت گرد پراکسی گروپوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی تیل کی آمدنی کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔امریکہ ایران کی جانب سے ان ضرر رساں سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے کی کسی بھی کوشش کو جارحانہ انداز میں نشانہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ایران طویل عرصے سے اپنے تیل کے شعبے کے خلاف پابندیوں اور اس کی برآمدات کو ضبط کرنے کی کوششوں کو ’قزاقی‘ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔امریکی پابندی کی زد میں آنے والی ایرانی کمپنی سے منسلک افراد امریکا کا سفر نہیں کرسکیں گے، کمپنی کے جہاز بھی پابندی کی زد میں آگئے۔
ادھر امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے اداروں سے دستبرداری کے بعد عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا دی ہے۔امریکی صدر کے فیصلے سے امریکی شہریوں اور اس کے اتحادیوں کے خلاف آئی سی سی کی تحقیقات میں شامل عملے اور ان کے اہلخانہ پر مالیاتی اور ویزا پابندیاں عائد ہوں گی۔امریکہ کا یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو و دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔حالانکہ 79 ممالک جن میں عدالت کے تقریباً دو تہائی ارکان ہیں نے ایک بیان میں کہا ہے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مضبوط حامی ہونے کے ناطے ہم عدالت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش پر معذرت خواہ ہیں۔ رکن ممالک نے سلووینیا، لکسمبرگ، میکسیکو، سیرا لیون اور وانواتو کی پہل اور برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنوبی افریقہ، فلسطینی اتھارٹی، کینیڈا، چلی اور پاناما کی طرف سے دستخط کیے گئے مشترکہ بیان جاری کیاہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


