Bharat Express DD Free Dish

Hathras Stampede Case: ہاتھرس بھگدڑ میں121اموات پر عدالتی کمیشن کی رپورٹ، بھولے بابا کو ملی کلین چٹ

عدالتی کمیشن نے تحقیقات کے بعد اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ منتظمین کی جانب سے تقریب کی اجازت کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔

عدالتی کمیشن نے ہاتھرس میں ستسنگ میں بھگدڑ اور 121 افراد کی بھگدڑ معاملے  کی رپورٹ داخل کی  ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کی رپورٹ جمعرات کو کابینہ کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ ایس آئی ٹی کی طرح جوڈیشل کمیشن نے بھی ستسنگ کرنے والے بھولے بابا کو کلین چٹ دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق جوڈیشل انکوائری کمیشن نے اس واقعے کا ذمہ دار پولیس کی غفلت کو قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں منتظمین کو واقعہ کے پیچھے اصل مجرم قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کئی تجاویز بھی دی ہیں۔ تحقیقات کے بعد کمیشن نے مشورہ دیا ہے کہ پولیس افسران ذاتی طور پر ہر تقریب کے مقام کا  خود جاکردورہ کریں۔

عدالتی کمیشن نے تحقیقات کے بعد اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ منتظمین کی جانب سے تقریب کی اجازت کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا بندوبست ہونا چاہیے۔

تین رکنی جوڈیشل کمیشن بنا ئی گئی تھی

3 جولائی کو اتر پردیش حکومت نے ہاتھرس سانحہ اور بھگدڑ کے پیچھے کسی سازش کے امکان کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا۔ اس واقعہ میں مرکزی سیوادار دیو پرکاش مدھوکر اور دیگر سیواداروں کے خلاف غیر ارادی قتل، اقدام قتل، شدید چوٹ پہنچانے، لوگوں کو یرغمال بنانے، امتناعی احکامات کی خلاف ورزی اور ثبوت چھپانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 2 جولائی کو سکندر راؤ کے فلرائی مغل گڑھی گاؤں میں نارائن ساکر ہری بھولے بابا عرف سورج پال کے ستسنگ کے دوران بھگدڑ میں 121 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ ہجوم کو رضاکاروں نے ان کے قافلے کو گزرنے کے لیے روکا؛ اس دوران لوگ اس کے چرن کی دھول لینے کی دوڑ میں گرتے رہے۔ اس معاملے میں پولیس نے 11 لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجاتھا۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read