Bharat Express DD Free Dish

Yogi Adityanath

اس سے پہلے بھی اکھلیش یادو یوپی میں کھاد کی قلت کو لے کر حکومت کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی والوں نے ساری کھاد دبا رکھی ہے اور اس کی کالا بازاری کر رہے ہیں۔ اکھلیش نے ایکس پر لکھا کہ ڈی اے پی اور پی ڈی اے دونوں میں حروف کی مماثلت ہے اور یہ بھی کہ یہ دونوں بی جے پی کے زوال کو اور تیز کر دیں گے۔

پوسٹر میں مہنگائی اور امن و امان سے متعلق چھوٹی چھوٹی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔ تصویر میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے ساتھ شیو پال اور آدتیہ یادو کی بھی تصویر لگائی گئی ہے۔

ناسک میں رام داس اٹھاولے نے کہا، "ہم مسلمانوں کی مخالفت نہیں کرتے۔ ہم سپریم کورٹ کے مسلمانوں کے بارے میں دیئے گئے بیان سے متفق ہیں۔ صرف ہندو مسلم اتحاد ہی ملک کو مضبوطی سے آگے لے جا سکتا ہے۔"

یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر ادھو خیمہ لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹر میں یہ سب نہیں چلے گا۔ مہاراشٹر میں نہ کسی کو بانٹا جائے گا اور نہ ہی کوئی کٹے گا۔

پریاگ راج مہاکمبھ کو لے کر اکھاڑوں کی میٹنگ میں کافی ہنگامہ ہوا۔ سنتوں اور مہاتماوں کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ اکھاڑوں سے وابستہ سنتوں نے ایک دوسرے کو تھپڑ مارے، یہی نہیں، ایک دوسرے کو لاتیں اور گھونسے بھی مارے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ سروجنی نگر سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے فلاحی کاموں سے وابستہ ہیں۔ وہ سی ایم یوگی کی رہنمائی میں ایک وقف عوامی ملازم کے طور پر ریاست کے لوگوں کی خدمت اور ترقی میں سرگرم ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان'اگربٹیں گے تو کٹیں گے' پر ایک بار پھرردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'انگریز چلے گئے اور انہیں چھوڑگئے۔

ایم ایل اے راجیشور سنگھ نے منگل کوٹوئٹر پر لکھا، محترم اکھلیش جی، پہلے آپ کو قائم مقام ڈی جی پی ہونے پر پریشانی ہوتی تھی، اب اگر باقاعدہ ڈی جی پی کے انتخاب کا عمل نافذ ہو تو بھی پریشانی ہے!

ایس پی چیف نے لکھا کہیں یہ دہلی کے ہاتھ سے لگام اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش تو نہیں  ہے؟ دہلی بنام لکھنؤ 2.0، اس معاملے کو لے کر سیاسی حلقوں میں تیکھی  بحث جاری ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کچھ عرصہ قبل انتخابی بیان بازی کے دوران کہا تھا کہ ’’بنٹوگے تو کٹوگے۔‘‘ ان کا یہ بیان سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’ایک ہیں تو سیف ہیں۔‘‘