Bharat Express DD Free Dish

Women Rights

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر وسیع پابندیاں برقرار ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حقیقی اقتدار پر کنٹرول اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے؟

مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر اور خواتین ونگ کی سربراہ ڈاکٹر شالینی علی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا—عورت سونے کا ہار نہیں، ایک آزاد شہری ہے، عزت کے نام پر خواتین کو گھروں میں محدود کرنا ان کی آزادی اور صلاحیتوں پر پہرہ بٹھانے کے مترادف ہے

انہوں نے کہا کہ ’منوسمرتی‘ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی بچپن میں اپنے والد کی ملکیت ہوتی ہے، جوانی میں اپنے شوہر کی اور بڑھاپے میں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے۔ لیکن یہ باتیں شرمناک ہیں۔ ہماری خواتین کو آزاد ہونا چاہیے۔ آپ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔ والد، شوہر اور بیٹے کے ساتھ آپ کے رشتے ہیں، لیکن آپ کی شناخت ان سے طے نہیں ہوتی۔ آپ کی اپنی شناخت ہے۔

ان تبصروں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید دیکھنے میں آئی۔ متعدد صارفین نے ان بیانات کو خواتین کی توہین، غیر ذمہ دارانہ اور حساس جرائم کے بارے میں نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف خواتین کی کامیابیوں کا جشن منانے کا موقع ہی نہیں بلکہ اپنے کردار، ذمہ داریوں اور مستقبل کے لیے مضبوط عزم کرنے کا بھی دن ہے۔