Urdu Conclave 2026

women empowerment India

لوک سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی کاروباری لحاظ سے سرفہرست 500 لسٹڈ کمپنیوں میں خواتین کی اعلیٰ انتظامی عہدوں پر نمائندگی اب بھی انتہائی کم ہے۔ ان کمپنیوں میں صرف 9 خواتین چیف ایگزیکٹو آفیسرز (CEO) اور 25 خواتین مینیجنگ ڈائریکٹرز (MD) کے عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارت کارپوریٹ امور کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 13 اضلاع کی کمان خواتین ضلعی مجسٹریٹس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد اتر پردیش ملک میں سب سے زیادہ خواتین ڈی ایم رکھنے والی ریاستوں میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پروگرام کے منتظمین کے مطابق اس تربیت نے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔ بہت سی خواتین نے گھریلو صنعت، دستکاری، کھانے پینے کے سامان اور دیگر چھوٹے کاروبار شروع کر کے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف خواتین کی کامیابیوں کا جشن منانے کا موقع ہی نہیں بلکہ اپنے کردار، ذمہ داریوں اور مستقبل کے لیے مضبوط عزم کرنے کا بھی دن ہے۔

خواتین کی سلامتی، شمولیت اور مساوی مواقع آج کسی بھی شہر کی ترقی اور سماجی ذمہ داری کا سب سے اہم پیمانہ بن چکے ہیں۔ خواتین کے لیے محفوظ ماحول نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ آئینی اور انسانی فریضہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں اوتار گروپ کی تازہ رپورٹ نے ملک کے ان شہروں کی درجہ بندی پیش کی ہے جہاں خواتین کے لیے تحفظ، شرکت اور کیریئر میں ترقی کے بہترین مواقع دستیاب ہیں۔

آچاریہ پرمود اور راجیشور سنگھ کے بیانات اس بات کی گواہی ہیں کہ بھارت میں خواتین کی ترقی کو محض رفاہی نکتہ نظر سے نہیں، بلکہ قومی تعمیر کے بنیادی جزو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا مشترکہ پیغام ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی خواتین کو بلند نہ کرے۔