Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Political News

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس میں بڑی بغاوت ہوئی ہے۔ رتبرتا بنرجی کی قیادت میں باغی اراکین اسمبلی نے ممتا بنرجی کو چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹاکر انوپ رائے کو نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔ ابھیشیک بنرجی کو پارٹی سے معطل کردیا گیا ہے۔ 60 اراکین اسمبلی اور 70 کونسلروں کی حمایت سے بنی اس نئی کمیٹی نے ریاست کی سیاست میں بھونچال لا دیا ہے، جس سے پارٹی کے انتخابی نشان سے متعلق بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

اسمبلی انتخابات کے بعد مغربی بنگال کی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ ہمایوں کبیرنے اپنی جیت یقینی بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ممتا بنرجی کو ریجی نگرسے ضمنی انتخاب لڑنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ایم سی کے 20 ممبران پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے خلاف بغاوت کے لئے تیارہیں۔ ہمایوں کبیرنے ٹی ایم سی قیادت پرتنقید کرتے ہوئے ممتا بنرجی کوریاستی سیاست کی اہم شخصیت قراردیا۔

مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر رویندر ناتھ بوس نے رتبرتا بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کی منظوری دے دی ہے۔ وہیں آخرالزماں کو چیف وہپ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے باغی اراکین اسمبلی نے اسپیکرسے ملاقات کی اور58 اراکین کے دستخط شدہ حمایتی خطوط پیش کئے۔

ریجو دتہ نے کہا کہ ٹی ایم سی کے 2 اراکین اسمبلی، رتبرتا بنرجی اورسندیپن ساہا نے اسپیکر کو خط لکھ کردعویٰ کیا کہ ان کے دستخط جعلی ہیں۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس نے ان دونوں اراکین اسمبلی کو پارٹی سے معطل کردیا۔

انتخابی نتائج کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہاوڑہ کے شیوپور میں بم دھماکے میں بی جے پی کارکن کے زخمی ہونے کی بات سامنے آئی ہے جبکہ کانتھی میں ترنمول لیڈرکے گھرپربھی حملہ کیا گیا۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پرالزامات لگا رہی ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی نے اپنے 40 اسٹار کیمپینر کی لسٹ جاری کر دی ہے، جس میں وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی بڑے لیڈر شامل ہیں۔ پارٹی نے انتخابات سے قبل اپنی پوری طاقت جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریاست میں بھرپور انتخابی مہم چلانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

حکام کے مطابق ریاستی حکومت نے اسمبلی انتخابات کے اعلان سے قبل تقریباً ایک ہزار افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2,185 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔ ان میں 832 افراد براہ راست ترنمول کانگریس سے وابستہ تھے جبکہ 144 افراد کو پارٹی کے حامیوں کے طور پر سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت پر الیکشن کمیشن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے قبل اس نوعیت کی تعیناتی انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مغربی بنگال کے ضلع ساؤتھ 24 پرگنہ کے باسنتی اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے۔ مقامی پولیس کے مطابق، جھڑپ کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بنگال میں سیاسی ماحول اس وقت کشیدہ ہے، جہاں بی جے پی اور برسراقتدار ترنمول کانگریس کے درمیان انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی اور آئی-پی اے سی کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائیوں کو لے کر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔