Bharat Express DD Free Dish

West Bengal assembly polls: کانگریس مغربی بنگال اسمبلی انتخابات اکیلے لڑنے پر کررہی ہے غور، گزشتہ انتخابات میں اتحاد کی خراب کارکردگی ہوگی بڑی وجہ

بنگال میں سیاسی ماحول اس وقت کشیدہ ہے، جہاں بی جے پی اور برسراقتدار ترنمول کانگریس کے درمیان انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی اور آئی-پی اے سی کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائیوں کو لے کر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

نئی دہلی: کانگریس پارٹی آئندہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لیے مختلف امکانات پر غور کررہی ہے اور امکان ہے کہ وہ ریاست میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بغیر، اکیلے ہی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرے۔ پارٹی ذرائع نے جمعرات کو یہ جانکاری دی۔ ذرائع کے مطابق، اب تک بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ بنگال کانگریس کے کئی رہنما اس بات کے حامی ہیں کہ پارٹی اکیلے انتخابی میدان میں اترے، کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے زیادہ تر اتحاد میں انتخابات لڑنے کے باعث پارٹی کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے، لیکن کانگریس کی حکمت عملی پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخابات تنہا لڑ سکتی ہے۔

گزشتہ انتخابات میں اتحاد کی خراب کارکردگی

ذرائع کے مطابق، گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو، کانگریس اور انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) کے اتحاد کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی، جہاں اتحاد صرف ایک نشست جیت سکا۔ اس کے برعکس بی جے پی ریاست میں مرکزی حزبِ اختلاف کے طور پر ابھری، جبکہ اس سے قبل طویل عرصے تک ریاست کی سیاست پر بائیں بازو اور کانگریس کا غلبہ رہا تھا۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگال یونٹ کا ایک طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اتحاد میں رہ کر پارٹی کی توسیع ممکن نہیں اور ان علاقوں میں پارٹی مزید کمزور ہو جائے گی جہاں وہ طویل عرصے سے انتخابی میدان میں نہیں اتری ہے۔

تنظیمی بنیاد مضبوط کرنے پر زور

ذرائع نے کہا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ مارچ-اپریل میں متوقع اسمبلی انتخابات کو پورے مغربی بنگال میں اپنی تنظیمی بنیاد مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ادھر کیرالہ میں بھی رواں سال کے پہلے نصف میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جہاں بائیں بازو کی جماعتیں اور کانگریس کی قیادت والا یو ڈی ایف اقتدار کے بڑے دعویدار رہے ہیں۔ بی جے پی ماضی میں کانگریس پر یہ طنز کرتی رہی ہے کہ وہ بنگال میں بائیں بازو کے ساتھ اتحاد میں اور کیرالہ میں انہی جماعتوں کے خلاف انتخابات لڑتی ہے۔

تنظیمی تقرریاں اور سیاسی ماحول

کانگریس نے اسی ماہ کے آغاز میں سینئر رہنما بی کے ہری پرساد کو مغربی بنگال کے لیے اسکریننگ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ بنگال میں سیاسی ماحول اس وقت کشیدہ ہے، جہاں بی جے پی اور برسراقتدار ترنمول کانگریس کے درمیان انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) اور آئی-پی اے سی کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائیوں کو لے کر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، مغربی بنگال میں انتخابی حکمت عملی پر حتمی فیصلہ کانگریس قیادت کی جانب سے آئندہ چند دنوں میں کیے جانے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read