Bharat Express DD Free Dish

Water Crisis

وزیراعظم نریندر مودی آج 2 ستمبر کی شام 4:30 بجے نئی دہلی میں وزارت جل شکتی کے پہلے محکمہ جاتی سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس اجلاس میں ’ٹیم انڈیا‘ کے جذبے کے ساتھ جل جیون مشن 2.0 اور آبی ذخائر و تحفظ کے حوالے سے ٹھوس حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

کراچی میں پانی کی شدید قلت کا بحران مسلسل دوسرے ماہ بھی جاری ہے، جس کے باعث شہری پانی کے ٹینکروں اور نجی سپلائرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے ٹینکر مافیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کئی علاقوں میں یہ گروہ پانی کی قلت کا فائدہ اٹھا کر عوام کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

بھارت ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر سدیش تیواری نے بھاگیرتھ پورہ معاملے میں اہم سوالات کے جوابات تلاش کیے۔ اندور کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پانی جیسی بنیادی سہولت میں لاپروائی کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اندور جیسے شہر میں ایسی صورتحال سب کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہریانہ حکومت بار بار مرکز اور پنجاب سے درخواست کر رہی ہے کہ گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے ریاست میں پینے کے پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے اضافی پانی فراہم کیا جائے۔

نیکسس سے تربیت یافتہ اسٹارٹ اپ اومسیٹ ٹیکنالوجیز پائپ لائن میں پانی ٹپکنے کا پتہ لگانے اور زیر زمین پانی کے ذرائع کی تلاش کے لیے سٹیلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے۔

آتشی کے مطابق ہریانہ دہلی کو پانی فراہم نہیں کر رہا ہے۔ ہریانہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔ ہم پانی کہاں سے دیں؟ اس کے جواب میں آتشی کا کہنا ہے کہ ہریانہ حکومت کو ہتھنی  کنڈ بیراج کا پانی دہلی کے لیے کھول دینا چاہیے۔

دہلی میں چلچلاتی گرمی کے درمیان پچھلے کچھ دنوں سے کئی علاقوں میں پانی کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے دہلی کی سیاست میں عام آدمی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔

ان آبی ذخائر میں موجودہ پانی کا ذخیرہ 8.865 بی سی ایم ہے جو کہ ان کی کل گنجائش کا صرف 17 فیصد ہے یہ اعداد و شمار پچھلے سال اور دس سال کی اسی مدت کے ذخیرہ کرنے کی اوسط (23 فیصد سے بہت کم) سطح سے کم ہے۔

’مصنوعی ذہانت پر مبنی حل سے لے کر طبقات کے اقدامات تک ‘ چنئی میں واقع امریکی قونصل خانہ کے ’ ٹیک کیمپ کوچی‘ کی اختراعات سے ٹیکنالوجی کے ذریعہ پائیداری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔