Bharat Express DD Free Dish

Waqf Board Amendment

اترپردیش کے اقلیتی بہبود کے وزیرمملکت دانش آزاد انصاری نے کہا کہ نئے قانون کے تحت اترپردیش میں ایک وقف بورڈ تشکیل دیا جائے گی، جس میں دوہندواراکین ہوں گے۔ اس کے علاوہ، بورڈ میں پسماندہ مسلمان، خواتین اورمسلم کمیونٹی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی شامل ہوں گے۔

مدھیہ پردیش حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت ریاستی وقف بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کی ہے۔ نئے وقف بورڈ میں پہلی بار دو ہندو ارکان، منوج مالپانی اور انیمیش بھارگو کو شامل کیا گیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم اس وقف بل کے خلاف ہیں اور اس لئے خلاف ہیں کیوں کہ بی جے پی ہر جگہ مداخلت کرنا چاہتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ ہرچیز پر ہرجگہ اس کا کنٹرول ہوجائے۔

احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان اپیلوں کے باوجود یہ جماعتیں اس متنازع، امتیازی اور فرقہ وارانہ بل کی حمایت کرتی ہیں اور اسے قانون بننے میں مدد دیتی ہیں تو مسلم کمیونٹی اس ناانصافی کو کبھی نہیں بھولے گی۔

وقف بورڈ ترمیمی بل 2024 کے بارے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر خالد سیف اللہ رحمانی نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت میں دیگر پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کے مشورے سے وقف پر قبضے اور غلط استعمال پر قانون بنائے، ہم حکومت کا ساتھ دیں گے۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق وقف بورڈ کے ذریعہ کی گئی جائیدادوں پر دعووں کی لازمی تصدیق تجویز کی جائے گی۔ اسی طرح وقف بورڈ کی متنازعہ جائیدادوں کے لیے لازمی تصدیق کی تجویز دی گئی ہے۔