Bharat Express DD Free Dish

Madhya Pradesh Waqf Board: وقف بورڈ میں پہلی بار ہندو ارکان کی شمولیت، کون ہیں منوج مالپانی اور انیمیش بھارگو؟

مدھیہ پردیش حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت ریاستی وقف بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کی ہے۔ نئے وقف بورڈ میں پہلی بار دو ہندو ارکان، منوج مالپانی اور انیمیش بھارگو کو شامل کیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 پر عمل درآمد کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریاستی وقف بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کر دی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ نئے قانون کے تحت تشکیل دیے گئے اس بورڈ میں پہلی بار دو ہندو ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح مدھیہ پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے، جس نے ترمیم شدہ قانون کی دفعات کے مطابق وقف بورڈ کے ارکان کی تقرری کی ہے۔

دو ہندو ارکان کون ہیں؟

نئے قانون کے تحت وقف بورڈ کے ڈھانچے میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں غیر مسلم ارکان کو بھی بورڈ کا حصہ بنانے کی گنجائش شامل ہے۔ اسی کے تحت اندور کے منوج مالپانی اور ضلع گنا کے راگھو گڑھ کے رہائشی انیمیش بھارگو کو وقف بورڈ کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد ان دونوں کی تقرری کو ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ منوج مالپانی اندور کے رہنے والے ہیں اور کئی برسوں سے سماجی خدمت اور عوامی فلاح کے کاموں سے وابستہ ہیں۔ مختلف سماجی تنظیموں میں فعال کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی اور عوامی مفاد کے متعدد پروگراموں میں بھی شریک رہے ہیں۔ حکومت نے ان کے تجربے اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مدھیہ پردیش وقف بورڈ کا رکن نامزد کیا ہے۔دوسری جانب انیمیش بھارگو ضلع گنا کے راگھو گڑھ کے باشندے ہیں۔ وہ بھی طویل عرصے سے سماجی سرگرمیوں میں فعال ہیں اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ سماجی خدمات کے میدان میں ان کے تجربے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے انہیں بھی وقف بورڈ کی رکنیت دی ہے۔

وقف بورڈ میں کن شخصیات کو شامل کیا گیا؟

ریاستی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر سنور پٹیل کو مدھیہ پردیش وقف بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ، بھوپال نارتھ سے رکن اسمبلی عاطف عقیل، اجین کے فیضان خان، اندور کی فاطمہ چودھری، بیراسیہ (بھوپال) کی کونسلر شائستہ سلطان اور رتلام کی کونسلر شبانہ خان کو بھی بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے۔ منوج مالپانی اور انیمیش بھارگو کی شمولیت سے بورڈ میں متنوع نمائندگی دیکھنے کو ملے گی۔

ایک نشست اب بھی خالی

وقف بورڈ میں مجموعی طور پر 11 ارکان کی گنجائش ہے، جن میں بعض ارکان عہدے کے لحاظ سے شامل ہوتے ہیں۔ فی الحال مدھیہ پردیش اسٹیٹ بار کونسل کے صدر کا عہدہ خالی ہے، کیونکہ وہاں انتخابی عمل جاری ہے۔ اسی وجہ سے اس نشست پر ابھی تقرری نہیں ہو سکی۔ انتخاب مکمل ہونے اور نئے صدر کے انتخاب کے بعد انہیں بھی وقف بورڈ کا رکن بنایا جائے گا، جس کے بعد چیئرمین سمیت تمام 11 ارکان کی تعداد مکمل ہو جائے گی۔

وقف قانون میں ترمیم کیوں کی گئی؟

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کا مقصد وقف بورڈوں کے انتظام کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانا بتایا گیا ہے۔ نئے قانون میں خواتین اور غیر مسلم ارکان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن، ریکارڈ کے بہتر انتظام اور انتظامی نظام کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے وقف املاک کے انتظام میں شفافیت بڑھے گی اور نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جوابدہ ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read