Bharat Express DD Free Dish

Viksit Bharat

وزیراعظم مودی 5100 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، ’ماتا تریپورہ سندری مندر کمپلیکس‘ کا افتتاح بھی ہوگا

شہروں میں رہائش پزیرلوگوں سے آگے بڑھیں تو دیہی ہندوستان کے لئے بھی یہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آبپاشی کے نظام ، کمپوسٹنگ مشینوں اور ٹریکٹروں ، کسانوں کے لیے لاگت میں آسانی اور پائیدار طریقوں کو آگے بڑھانے جیسی بڑی مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح 5فیصدکئے جانے کی وجہ سے زراعت کو فروغ ملا ہے۔

تاجروں میں آگاہی مہم کی تیاری، ہررکن پارلیمنٹ کو 20 سے 30 تجارتی کانفرنسیں منعقد کرنے اور دیوالی و نوراتری پر ’سودیشی میلے‘ لگانے کی ہدایت

ٹیکس نظام میں تاریخی اصلاح، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جی ایس ٹی کے نئے ڈھانچے کی منظوری، 5 اور 18 فیصد کے دو بڑے ٹیکس سلیب، 40 فیصد ’سن گڈز‘ کے لیے مخصوص

کرما شکسا کے ساتھ، طلباء اپنی تعلیم کے دوران مالی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے، "سیکھتے وقت کماتے" ماڈل سے مستفید ہوں گے۔ یہ ڈپلومہ قومی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور یہ روزگار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے لیے براہ راست راستے فراہم کرتا ہے، جس سے طلباء کو پائیدار، طویل مدتی کیریئر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

ریاستی حکومتیں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، آندھرا پردیش نے وزیراعظم نریندر مودی کے وِکست بھارت 2047 وژن کے تحت "سونا آندھرا 2047 – 10 سُترے" متعارف کرائے ہیں۔ یہ فریم ورک ریاستوں کو ترقی کی نگرانی، جائزہ اور رپورٹنگ میں منظم انداز فراہم کرتے ہیں، اور قومی ترقی میں ان کا حصہ بڑھاتے ہیں۔

وزیرِاعظم نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے 40,000 سے زائد غیر ضروری ضوابط کو ختم کیا اور 1,500 سے زائد پرانے قوانین منسوخ کیے ہیں۔

بھارتی تعلیمی نظام طویل عرصے سے فرسودہ نصاب، سخت تشخیص کے طریقوں، اور رٹا لگانے پر ضرورت سے زیادہ زور دینے کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ طلبہ کو معلومات یاد کرنے کی تربیت دی جاتی تھی، نہ کہ تنقیدی سوچ یا حقیقی مسائل حل کرنے کی۔

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ زراعت بھارت اور جموں و کشمیر دونوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جس پر تقریباً 50 فیصد آبادی کا روزگار منحصر ہے۔

مالی سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں 7.4 فیصد اور پورے سال میں 6.5 فیصد کی مضبوط ترقی ہوئی ہے۔ تاہم، راجن نے اعتراف کیا کہ یہ شرح کافی قابل ستائش ہے، خاص طور پر جب انتخابات کی وجہ سے سرکاری اخراجات میں تاخیر ہوئی اور شماریاتی اعداد و شمار میں عارضی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔