Bharat Express DD Free Dish

Viksit Bharat

پی ایم مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں گی بلکہ طویل مدت میں روزگار، اختراع اور عالمی سطح پر بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو بھی فروغ دیں گی۔ انہوں نے لنکڈ اِن پر اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی مسلسل اصلاحاتی کوششیں بھارت کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی ایک نئی اور جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دو بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، مہارت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور چھوٹے صنعتوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا۔

VBYCP نے نوجوانوں کو بھارت کے ترقیاتی خاکے سے آگاہ کیا اور انہیں کمیونٹی سروس، آگہی مہمات، اور قیادت پر مبنی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔این ایس ایس جامعہ ہمدرد نوجوانوں کو ذمےدار، بااختیار اور سماجی طور پر باشعور شہری بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

وزیراعظم نے 19,650 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ کسانوں کو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں سے جوڑے گا۔

کمپنی کے مطابق، NSRCEL کے ساتھ مل کر یہ پروگرام اگلے سال بھارت میں 1,000 خواتین کاروباریوں کو گریجویٹ کرنے اور موجودہ 3,800 خواتین کی شمولیت کو بڑھا کر 2033 تک 10,000 کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔

وزیراعظم مودی 5100 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھیں گے، ’ماتا تریپورہ سندری مندر کمپلیکس‘ کا افتتاح بھی ہوگا

شہروں میں رہائش پزیرلوگوں سے آگے بڑھیں تو دیہی ہندوستان کے لئے بھی یہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آبپاشی کے نظام ، کمپوسٹنگ مشینوں اور ٹریکٹروں ، کسانوں کے لیے لاگت میں آسانی اور پائیدار طریقوں کو آگے بڑھانے جیسی بڑی مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح 5فیصدکئے جانے کی وجہ سے زراعت کو فروغ ملا ہے۔

تاجروں میں آگاہی مہم کی تیاری، ہررکن پارلیمنٹ کو 20 سے 30 تجارتی کانفرنسیں منعقد کرنے اور دیوالی و نوراتری پر ’سودیشی میلے‘ لگانے کی ہدایت

ٹیکس نظام میں تاریخی اصلاح، وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جی ایس ٹی کے نئے ڈھانچے کی منظوری، 5 اور 18 فیصد کے دو بڑے ٹیکس سلیب، 40 فیصد ’سن گڈز‘ کے لیے مخصوص