Bharat Express DD Free Dish

Viksit Bharat

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے مالدہ میں منعقد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سال 2047 تک بھارت کو ایک وکست بھارت ملک بنانے کے ہدف کو پھر دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جین-زی یعنی نوجوان نسل بی جے پی کے ترقیاتی ماڈل پر سب سے زیادہ بھروسہ کر رہی ہے۔

مکر سنکرانتی کے پُرمسرت موقع پر ’’بہان – فار دی رائزنگ بھارت‘‘ نے وزیر اعظم مودی کے وکست بھارت @2047 کے وژن کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے عالمی ’برین گین‘ پہل کا اعلان کیا ہے۔

دہلی میں منعقدہ ’وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد بھارت بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے عالمی صلاحیت سازی اور عالمی انضمام کے حصول کے لیے مشن پر مبنی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے طویل مدتی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف شعبوں میں مشن پر مبنی اصلاحات کی اپیل کی۔

پی ایم مودی نے کہا کہ یہ اصلاحات نہ صرف معیشت کو مستحکم کریں گی بلکہ طویل مدت میں روزگار، اختراع اور عالمی سطح پر بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو بھی فروغ دیں گی۔ انہوں نے لنکڈ اِن پر اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی مسلسل اصلاحاتی کوششیں بھارت کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی ایک نئی اور جامع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دو بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، مہارت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور چھوٹے صنعتوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانا۔

VBYCP نے نوجوانوں کو بھارت کے ترقیاتی خاکے سے آگاہ کیا اور انہیں کمیونٹی سروس، آگہی مہمات، اور قیادت پر مبنی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔این ایس ایس جامعہ ہمدرد نوجوانوں کو ذمےدار، بااختیار اور سماجی طور پر باشعور شہری بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

وزیراعظم نے 19,650 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ایئرپورٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ کسانوں کو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں سے جوڑے گا۔

کمپنی کے مطابق، NSRCEL کے ساتھ مل کر یہ پروگرام اگلے سال بھارت میں 1,000 خواتین کاروباریوں کو گریجویٹ کرنے اور موجودہ 3,800 خواتین کی شمولیت کو بڑھا کر 2033 تک 10,000 کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔