Bharat Express DD Free Dish

Viksit Bharat Vision

بھارت اور فرانس نے مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار، معیار سازی اور تکنیکی امور میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے، تاکہ جدید اور جنریٹو اے آئی ماڈلز کے لیے خطرات پر مبنی اور ہم آہنگ پالیسیوں کو فروغ دیا جا سکے، جب کہ اختراع اور قومی ترقی کی رفتار بھی متاثر نہ ہو۔

یوپی کے وزیر دانش اعظم انصاری اور این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر نے اقلیتوں کی ترقی اور جامع ترقی کے لیے مشترکہ پروگراموں پر اتفاق کیا، جب کہ ہندوستان اپنی آزادی کی سو سالہ تقریبات کی طرف گامزن ہے

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ مائکرون کی یہ فیسلٹی بھارت اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعاون اور شراکت داری کا ثبوت ہے، خصوصاً اے آئی اور چِپ جیسی جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا انسانی مستقبل سے جڑی ان دونوں ٹیکنالوجیز کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے زور دے کر کہا کہ آج ذات پات نہیں بلکہ سناتن اور سماجی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد معاشرہ ایک بار پھر متحد نظر آ رہا ہے اور مہاکمبھ، ماغ میلہ اور مختلف تہواروں نے سماج کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے، جسے اب بکھرنے نہیں دینا چاہیے۔

راجیہ سبھا میں صدر کے خطبے پر شکریے کی تحریک کے جواب میں اظہار خیال، عالمی نظام میں بھارت کے بڑھتے کردار پر زور۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی کے ساتھ ’وکست بھارت‘ کی سمت بڑھ رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کے مالدہ میں منعقد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سال 2047 تک بھارت کو ایک وکست بھارت ملک بنانے کے ہدف کو پھر دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جین-زی یعنی نوجوان نسل بی جے پی کے ترقیاتی ماڈل پر سب سے زیادہ بھروسہ کر رہی ہے۔

دہلی میں منعقدہ ’وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے نوجوانوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد بھارت بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے اتوار کے روز دہلی میں چیف سکریٹریوں کی پانچویں قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ تین روزہ یہ کانفرنس 26 سے 28 دسمبر تک دہلی کے پوسا میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس کوآپریٹو فیڈرلزم کی روح کو مضبوط کرنے اور وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کانفرنس مرکز اور ریاستوں کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جو وِکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے ریاستوں کو ہدایت دی کہ وہ کم از کم ایک عالمی معیار کا سیاحتی مقام تیار کرنے کا روڈ میپ بنائیں۔ کھیلوں کے عالمی کیلنڈر کے مطابق تیاری کریں اور 2036 اولمپکس کے پیش نظر نوجوان کھلاڑیوں کی طویل مدتی تربیت پر توجہ دیں۔