Bharat Express DD Free Dish

PM Modi at Chief Secretaries Conference: ’میڈ ان انڈیا‘ کا مطلب ’زیرو ڈیفیکٹ‘: وزیراعظم مودی نے چیف سکریٹریوں کو دیا نیا ٹاسک

وزیر اعظم نے اتوار کے روز دہلی میں چیف سکریٹریوں کی پانچویں قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ تین روزہ یہ کانفرنس 26 سے 28 دسمبر تک دہلی کے پوسا میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس کوآپریٹو فیڈرلزم کی روح کو مضبوط کرنے اور وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے چیف سکریٹریوں کے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وکست بھارت‘ صرف معاشی ترقی کا نام نہیں بلکہ معیار اور عمدگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے انسانی سرمایہ کو بااختیار بنانے، ’میڈ ان انڈیا‘ کو عالمی برانڈ بنانے اور 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے ریاستوں سے ابھی سے تیاری شروع کرنے کی اپیل کی۔

چیف سکریٹریوں کی قومی کانفرنس سے خطاب

وزیر اعظم نے اتوار کے روز دہلی میں چیف سکریٹریوں کی پانچویں قومی کانفرنس سے خطاب کیا۔ تین روزہ یہ کانفرنس 26 سے 28 دسمبر تک دہلی کے پوسا میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس کوآپریٹو فیڈرلزم کی روح کو مضبوط کرنے اور وکست بھارت کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

وکست بھارت کے لیے انسانی سرمایہ

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ علم، ہنر، صحت اور صلاحیتوں سے آراستہ انسانی سرمایہ معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت کا بنیادی محرک ہے، جسے حکومت کے مربوط اور ہم آہنگ نقطۂ نظر کے تحت فروغ دیا جانا چاہیے۔ کانفرنس میں ’وکست بھارت کے لیے انسانی سرمایہ‘ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی تقریباً 70 فیصد آبادی کام کرنے کی عمر میں ہے، جو ایک تاریخی موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ آبادیاتی برتری اقتصادی پیش رفت کے ساتھ مل کر بھارت کے وکست بھارت کے سفر کو تیز رفتار بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی نوجوان آبادی کی طاقت کے بل پر اصلاحات کی رفتار پر گامزن ہو چکا ہے اور اس آبادی کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

’میڈ اِن انڈیا‘: معیار اور عمدگی کی پہچان

وزیراعظم نے کہا کہ وکست بھارت معیار اور عمدگی کا مترادف ہے اور تمام فریقین سے کہا کہ وہ اوسط درجے کے نتائج سے آگے بڑھیں۔ حکمرانی، خدمات کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ میں معیار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میڈ اِن انڈیا‘ کا لیبل عالمی مسابقت اور عمدگی کی علامت بننا چاہیے۔ انہوں نے خود کفالت کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو زیرو ڈیفیکٹ اور کم سے کم ماحولیاتی اثر کے ساتھ پیداوار بڑھانی ہوگی، تاکہ ’میڈ اِن انڈیا‘ معیار کا مترادف بنے اور ’زیرو امپیکٹ، زیرو ڈیفیکٹ‘ کے عزم کو تقویت ملے۔ وزیر اعظم نے مرکز اور ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے 100 مصنوعات مشترکہ طور پر شناخت کریں اور گھریلو پیداوار کو فروغ دیں۔

افسران کو نیا ٹاسک

وزیراعظم نے ہنرمندی کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے ریاستی اور عالمی سطح پر ہنر کی طلب کا جائزہ لینے پر زور دیا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں معیاری افرادی قوت کی تیاری کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے مشترکہ تعاون کی ضرورت بھی بتائی۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کے روزگار کے لیے سیاحت کے شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی بھرپور وراثت اور تاریخ کے سبب عالمی سیاحت کے بڑے مراکز میں شامل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے کہا کہ کم از کم ایک عالمی معیار کا سیاحتی مقام تیار کریں اور مکمل سیاحتی نظام کو فروغ دینے کے لیے جامع منصوبہ بنائیں۔

کھیلوں پر وزیراعظم کا وژن

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارتی قومی کھیل کیلنڈر کو عالمی کھیل کیلنڈر کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔  بھارت 2036 اولمپکس کی میزبانی کی کوشش کر رہا ہے، اس کے لیے عالمی معیار کا انفراسٹرکچر اور کھیلوں کا مضبوط نظام تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی بروقت شناخت اور تربیت ضروری ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ ریاستوں سے اپیل کی گئی کہ اگلے 10 برسوں تک کھیلوں میں سرمایہ کاری کی جائے۔ مقامی اور ضلعی سطح پر کھیل مقابلوں کے انعقاد، تشہیر اور کھلاڑیوں کے ڈیٹا کی تیاری سے ایک متحرک کھیل ماحول تشکیل پائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read