لکھنؤ: راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے دنیا کی قیادت کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے ملک کو لوٹنے کی کوشش کی، مگر وہ بھارت کی ثقافت اور سنسکار کو نہیں لوٹ سکے۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ بھارت کی ثقافت اور سنسکار کو اس سماجی طبقے نے محفوظ رکھا جو مذہبی مقامات کے تحفظ کے جذبے کے ساتھ ویدوں کی تلاوت کرتا تھا۔ ان کے مطابق مغلوں اور انگریزوں نے بھارتی معاشرے کو ذات پات میں تقسیم کیا تاکہ سناتن دھرم کے پیروکار متحد نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اتحاد کو توڑنے کے لیے شاستروں کا پاٹھ کرنے والے شکھا اور جنیو دھاری افراد کو سب سے پہلے نشانہ بنایا گیا، مگر برہمن طبقے نے ہر موقع پر سماج کو جوڑنے کا کام کیا۔ شادی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موقع پر بھی ہر طبقے کو الگ الگ ذمہ داریاں دی جاتی ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی مضبوط ہوتی ہے۔
ذات نہیں، سناتن اور سماجی اتحاد کی ضرورت
ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ برہمن کا فریضہ روایات کو سنبھالنا، سناتن اور سماج کو جوڑنا اور دیوی دیوتاؤں کے احترام کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج ذات پات نہیں بلکہ سناتن اور سماجی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد معاشرہ ایک بار پھر متحد نظر آ رہا ہے اور مہاکمبھ، ماغ میلہ اور مختلف تہواروں نے سماج کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے، جسے اب بکھرنے نہیں دینا چاہیے۔
ثقافتی احیاء کا نیا دور
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے نئے سال کی تقریبات میں ہوٹلوں میں بھیڑ ہوتی تھی، مگر اب لوگ مندروں کے باہر طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر درشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا ثقافتی وقار دوبارہ لوٹ آیا ہے اور یہ سناتن بیداری کا دور ہے، جس کی جھلک دنیا نے مہاکمبھ میں دیکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شری رام جنم بھومی مندر، کاشی وشوناتھ کوریڈور، مہاکال لوک، وندھیا واسنی ماتا مندر علاقہ کی تعمیر نو اور نیمیشارنیا سے لے کر متھرا اور چترکوٹ دھام تک ہونے والی ترقی نے سناتن ثقافت کے نئے عہد کی بنیاد رکھی ہے۔ آخر میں انہوں نے پروگرام کے منتظمین کی اس سوچ کو سراہا کہ تمام ذاتوں کے افراد کے احترام کے لیے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



