Bharat Express DD Free Dish

Vijay Shah

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مدھیہ پردیش کے ڈی جی پی کیلاش مکوانہ نے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ ہفتہ کے روز، تین رکنی ایس آئی ٹی نے اندور ضلع کے مہو علاقے کے قریب رائکنڈہ گاؤں کا دورہ کیا، جہاں شاہ نے 12 مئی کو ایک عوامی تقریب میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ ٹیم نے گاؤں کے سرپنچ اور سکریٹری سے ملاقات کی۔ اس دوران ایس آئی ٹی نے متعلقہ دستاویزات جمع کیے جس میں واقعے کی ویڈیو فوٹیج اور حاضرین کی فہرست بھی شامل ہے۔

وجے شاہ نے اپنی تازہ معافی میں کہا کہ وہ آئندہ اپنے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس معاملے کو زیادہ نہ بڑھایا جائے اور ان کی معافی کو قبول کیا جائے۔

مدھیہ پردیش کے وزیرجنگلات وجے شاہ کے متنازعہ بیان کے بعد سیاسی گھمسان مچا ہوا ہے۔ کانگریس مسلسل ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے اورگورنرسے مل کرمیمورنڈم بھی سونپا ہے۔ احتجاج کے دوران کانگریس اراکین اسمبلی کوپولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وجے شاہ کے خلاف داخل عرضی پرروک لگانے سے انکارکردیا ہے۔ عدالت نے انہیں کہا کہ آئینی عہدے پرہونے کے ناطے ہر لفظ کوذمہ داری کے ساتھ بولنا چاہئے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے کرنل صوفیہ قریشی پر دیے گئے متنازعہ بیان پر وجے شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد وزیر شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم اور ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی منظوری کے بعد ریاستی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی کے تعلق سے قابل اعتراض تبصرے پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔