Bharat Express DD Free Dish

FIR registered against BJP minister: کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں متنازعہ بیان دینے والے بی جے پی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج، وزیر اعلیٰ نے دیا کارروائی کا حکم

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم اور ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی منظوری کے بعد ریاستی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی کے تعلق سے قابل اعتراض تبصرے پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

تصویر: اے این آئی

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم اور ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی منظوری کے بعد ریاستی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی کے تعلق سے قابل اعتراض تبصرے پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اے این آئی کی خبر کے مطابق وجے شاہ کے خلاف یہ ایف آئی آر بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 152، 196 (1) (بی) اور 197 (1) (سی) کے تحت درج کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ نے دیا تھا ایف آئی درج کرنے کا حکم

واضح رہے کہ جبل پور میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے ریاستی وزیر وجے شاہ کے کرنل صوفیہ قریشی کے تعلق سے قابل اعتراض بیانات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو فوری ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعد ریاستی وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خبر دی کہ ’’مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے بعد وزیر اعلیٰ نے کابینہ وزیر وجے شاہ کے بیان کے تعلق سے کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔‘‘

جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس انورادھا شکلا کی ڈویژن بنچ نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت کی تھی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بدھ کی شام تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی ہے تو عدالت ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے خلاف حکم کی توہین عدالت کی کارروائی پر غور کر سکتی ہے۔ حالاں کہ ایف آئی آر بدھ کی شام تک درج نہیں ہوسکی، کیوں کہ کابینہ کے وزیر کے خلاف اس طرح کی کارروائی کے لیے ریاستی وزیر اعلیٰ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ایف آئی آر کس وقت درج کی گئی ہے، تاہم وزیر اعلیٰ کی منظوری کا ٹویٹ آدھی رات کا ہے۔

عدالت نے کہی تھی یہ اہم بات

ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے سماعت کرتے ہوئے مزید کہا تھا ’’وزیر وجے شاہ کی طرف سے دیے گئے بیان میں بنیادی طور پر مسلم عقائد کے ماننے والوں اور دوسرے مذہبی عقائد کے پیروکاروں کے درمیان انتشار، دشمنی، نفرت یا بغض کے جذبات پیدا کرنے کا رجحان نظر آتا ہے۔‘‘ عدالت نے اے جی آفس کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر کو اس حکم کی کاپی بھیجے اور اس حکم کی تعمیل کو یقینی بنائے۔

آج ہی ہوگی عدالت میں سماعت

اس معاملے کی اگلی سماعت آج 15 مئی کو ہونی ہے اور عدالت نے نے آج کی فہرست میں اس معاملے کو سرفہرست رکھا ہے۔ واضح رہے کہ وجے شاہ کی تقریر کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ تنازعہ کھڑا ہوا۔ تاہم بعد میں وجے شاہ نے اپنے تبصروں پر معافی مانگی اور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر لیے گئے اور ان کا مقصد کرنل قریشی کی بہادری کی تعریف کرنا تھا۔

میں ایک مرتبہ نہیں، دس مرتبہ معافی مانگتا ہوں: وجے شاہ

اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر نے کہا کہ ’’اگر جذبات میں میرے منہ سے کچھ ایسا نکل گیا ہے، جس سے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے تو میں دل سے معافی مانگتا ہوں۔ ایک بار نہیں بلکہ دس بار معافی مانگتا ہوں۔۔۔میں ایک محب وطن آدمی ہوں اور ہر برادری کے لوگوں نے ملک کے لیے کام کیا۔ اگر غصے میں کوئی بات منہ سے نکل گئی اور کسی کو بری لگئی تو میں بھگوان نہیں، انسان ہوں۔ میں اس کے لیے دس بار معافی مانگتا ہوں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read