Bharat Express DD Free Dish

US President Donald Trump

ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ناقابلِ قبول ہوگی اور ایسی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

وینزویلا میں امریکی کارروائی، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور وہاں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر بھارت نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت تشویشناک ہے اور اس نازک وقت میں تمام متعلقہ فریقوں کو بات چیت کے ذریعے ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو وینزویلا کے عوام کی سلامتی اور بھلائی کو یقینی بنا سکے۔

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ روس نے وینزویلا کے ساحل کے قریب اپنے ایک پرانے تیل بردار جہاز کی حفاظت کے لیے آبدوز اور بحری جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہی تیل ٹینکر اب امریکہ اور روس کے درمیان نئے تنازع اور سفارتی تناؤ کی بڑی وجہ بن چکا ہے۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر ہونے والے اس آپریشن کو محض تیل کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے وجوہات کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی کے بعد عالمی سیاست میں واضح دراڑ نظر آ رہی ہے اور دنیا دو بڑے خیموں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایسے ممالک بھی ہیں جو کھل کر امریکہ کے موقف اور کارروائی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سفارتی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ کارروائی پر عالمی سطح پر ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے امریکی اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک خود مختار ملک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے عالمی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔