Bharat Express DD Free Dish

US-Israel Attack

لبنان پر حملے روکنے کا سخت حکم دینے کے ایک دن بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے تیور بدل گئے۔ انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کا مضبوط اتحادی قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور تعریف کی۔ اس دوران جنگ بندی نافذ ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی نازک ہیں اور خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق، ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ حالانکہ، ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے ہلکا پھلکا پیغام رسانی ہوئی ہے۔

فیڈریشن نے ایرانی قوم اور جوڈو برادری سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم حسین پورسعیدی اور حامد رضا جہان بخش کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دونوں اسلامی جمہوریہ ایران کے فخر تھے، جو جوڈو کے چیمپیئن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی سلامتی کے دفاع میں اپنی جان قربان کر گئے۔

خلیجی ممالک نے ایران سے اپنے علاقوں پر حملے بند کرنے کو کہا ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے نہ صرف امریکی فوج کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچوں اور رہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بیرون ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ قیادت کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی تبدیلی کی حمایت کریں اور اگر چاہیں تو سیاسی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تعاون کریں گے انہیں مکمل استثنیٰ اور سکیورٹی فراہم کی جائے گی، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایران پرامریکی-اسرائیل حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ حملوں سے عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لئے اس پرفوری روک لگائی جائے۔

ایران، امریکہ اوراسرائیل کے درمیان بڑھتی فوجی کارروائی کے سبب پورے مڈل ایسٹ میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ مسلسل ہو رہے حملوں اور جوابی کارروائی سے علاقے میں بڑے جدوجہد کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب کی راجدھانی ریاض واقع امریکی سفارت خانہ پر ایران کے ذریعہ ڈرون سے حملہ کئے جانے کی خبرسامنے آئی ہے۔

بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔

ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان پاکستان کا ایران کے تئیں حمایت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ-اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔