Bharat Express DD Free Dish

US Embassy

بغداد کا گرین زون علاقہ نہایت حساس اور محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں عراقی حکومت کی اہم عمارتیں، پارلیمنٹ اور متعدد غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں، جن میں امریکی سفارت خانہ بھی شامل ہے۔ حالانکہ، گزشتہ چند برسوں میں یہ علاقہ کئی بار راکٹ اور مورٹار حملوں کی زد میں آ چکا ہے۔

ایران، امریکہ اوراسرائیل کے درمیان بڑھتی فوجی کارروائی کے سبب پورے مڈل ایسٹ میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ مسلسل ہو رہے حملوں اور جوابی کارروائی سے علاقے میں بڑے جدوجہد کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس درمیان سعودی عرب کی راجدھانی ریاض واقع امریکی سفارت خانہ پر ایران کے ذریعہ ڈرون سے حملہ کئے جانے کی خبرسامنے آئی ہے۔

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سفارتی روایات کے منافی ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سفارت خانے کے کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے اور آگ کے شعلے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ڈرونز کو فضا میں روکنے کی کوشش کی گئی یا وہ سعودی دارالحکومت کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اندر داخل ہوئے۔

امریکی مقرر اسٹیفن ایزل نے  ہندوستان کے پانچ شہروں میں منعقدہ اعلیٰ اثر والے پروگراموں کے ذریعے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلپیداوار،  اور دانشورانہ املاک کے شعبوں میں امریکی قیادت کو اجاگر کیا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ دور کی درآمدی محصولات پر اختلافات جاری ہیں۔ 27 اگست سے نافذ ہونے والی ان محصولات کے تحت بھارت سے درآمدی اشیاء پر 50 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

ایران کے ایک میزائل نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان ہوا۔ امریکی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ سفارت خانہ کو نقصان ہوا ہے، لیکن سبھی اہلکار محفوظ ہیں۔ ایران کے اس حملے نے مشرق وسطیٰ کے اس جنگ کو مزید تیز کردیا ہے۔