Bharat Express DD Free Dish

Union Budget 2026

وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے اس بارانکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلی تبدیلی تک پرانا نظام نافذ رہے گا۔ فی الحال، ٹیکس دہندگان کے پاس پرانے ٹیکس نظام یا نئے ٹیکس نظام کے تحت آئی ٹی آرفائل کرنے کا اختیار ہے۔

10 ہزار کروڑ روپے کنٹینر مینوفیکچرنگ کے لیے مختص کیے جائیں گے، 22 نئے واٹر ویز اور 3 مخصوص کوریڈور بنائے جائیں گے۔ پانچ علاقائی میڈیکل ہب قائم کیے جائیں گے اور بزرگ شہریوں کے لیے مضبوط صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آج پیش ہونے والے بجٹ سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے مجھے کوئی امید نہیں ہے۔ بجٹ پیش ہونے سے پہلے پرینکا گاندھی کے علاوہ دیگراپوزیشن لیڈران کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

جب وزیر خزانہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا 9واں بجٹ پیش کرنے پہنچیں، تو اعداد و شمار کے بجائے زیادہ بحث ان کی ساڑی پر ہوئی۔ معروف ’کانجیورم‘ ساڑی پہننا، جو لال بہی کھاتوں کے ساتھ مشہور ہے، محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی داؤ ںسمجھا جا رہا ہے۔

بجٹ 2026 سے عام لوگوں کو کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام ٹیکس قوانین کو آسان بنانے، جی ایس ٹی نظام کو مزید مؤثر کرنے اور مصنوعی ذہانت سے جڑی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات کی توقع کر رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے سامنے ایک طرف عوام کو راحت دینے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بجٹ میں توازن قائم رکھا جاتا ہے یا پھر ترقیاتی اہداف کے لیے سخت معاشی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج کا بجٹ نہ صرف آئندہ سال کی اقتصادی سمت طے کرے گا بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔

حکومت نے پان مسالہ، گٹکھا اور کھینی جیسے تمباکو مصنوعات پر اب براہ راست چالیس فیصد جی ایس ٹی نافذ کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ان مصنوعات پر اٹھائیس فیصد جی ایس ٹی کے ساتھ الگ سے سیس لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ سگریٹ پر لمبائی کی بنیاد پر نئی ایکسائز ڈیوٹی بھی طے کی گئی ہے،

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن مسلسل نویں مرتبہ بجٹ پیش کریں گی، ہیلتھ کیئر، دفاع، انفراسٹرکچر اور مڈل کلاس کے لیے بڑے اعلانات کی امید۔ 29 جنوری کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اکنامک سروے 2026 کے مطابق بھارت کی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ سروے میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں بھارتی معیشت 6.8 سے 7.2 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے۔