Bharat Express DD Free Dish

Union Budget 2026 LIVE: انکم ٹیکس میں کوئی چھوٹ نہیں، کینسر اور شوگر کی دواؤں میں رعایت، وزیرخزانہ نے ختم کی بجٹ تقریر

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے سامنے ایک طرف عوام کو راحت دینے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بجٹ میں توازن قائم رکھا جاتا ہے یا پھر ترقیاتی اہداف کے لیے سخت معاشی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج کا بجٹ نہ صرف آئندہ سال کی اقتصادی سمت طے کرے گا بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالے گا۔

آج صبح 11 بجے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں مرکزی بجٹ 2026-2027 کا خطاب شروع کر دیا ہے۔ بجٹ تقریر کے دوران وزیرِ خزانہ حکومت کی متوقع آمدنی و اخراجات، مالی پالیسی اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر روشنی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کررہی ہیں۔ یہ بھارت کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب بجٹ ویک اینڈ پر، یعنی اتوار کے دن پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ نرملا سیتارمن کا لگاتار نواں بجٹ ہے، جو ایک تاریخی ریکارڈ بن گیا ہے۔ ان سے پہلے کسی بھی وزیرِ خزانہ نے مسلسل اتنے بجٹ پیش نہیں کیا۔ نرملا سیتارمن ملک کی پہلی خاتون وزیرِ خزانہ ہیں اور اپنے طویل تجربے کے باعث عوام اور ماہرین کی بڑی امیدوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مسلسل نو بجٹ پیش کرنا ان کی سیاسی اور انتظامی مہارت کا ثبوت مانا جا رہا ہے۔ اسی لیے بجٹ سے پہلے ہی عوام، صنعت، تاجر طبقہ اور متوسط طبقہ سب کی نظریں ان کے  فیصلوں پر مرکوز ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا اس بجٹ میں عام آدمی کو براہِ راست راحت ملے گی یا معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے سخت فیصلے کیے جائیں گے۔ مہنگائی، روزگار اور آمدنی کے دباؤ کے درمیان عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے بوجھ کو کس حد تک کم کر پاتی ہے۔ خاص طور پر متوسط طبقہ اس بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی مانگ سب سے زیادہ زور پکڑ رہی ہے۔ آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے ٹیکس فائل کرنا ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔ اگر حکومت ٹیکس نظام کو سادہ بناتی ہے، فارم کم اور قوانین آسان کرتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ مڈل کلاس کو مل سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ انکم ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی بھی چرچا ہے، جس کے تحت زیادہ آمدنی والوں کو کچھ حد تک راحت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کے سامنے ایک طرف عوام کو راحت دینے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بجٹ میں توازن قائم رکھا جاتا ہے یا پھر ترقیاتی اہداف کے لیے سخت معاشی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آج کا بجٹ نہ صرف آئندہ سال کی اقتصادی سمت طے کرے گی بلکہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر بھی اس کا اثر پڑے گا ۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read